جنگ یوکرین سے امریکہ کو پہنچنے والے نقصان پر ٹرمپ کا واویلا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ایک ایسے وقت میں کہ جب ''نیٹو کی حمایت'' پر روس کیخلاف جنگ چھیڑنے والے یوکرینی صدر کو 25 فیصد ملکی سرزمین کھو دینے کے بعد بھی ''مغربی و امریکی مدد'' کی اشد ضرورت ہے، انتہاء پسند امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ یوکرینی جنگ سے امریکہ کو 350 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے امریکہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اپنے دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹرمپ نے وضاحت دی کہ ہم نے، بحیثیت ایک ملک، یوکرینی تنازعے سے بھاری نقصان اٹھایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے (یوکرین کی فوجی مدد کے حوالے سے) 350 بلین ڈالر خرچ کر دیئے ہیں۔
روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک کے مطابق اپنے اس بیان کے بعد امریکی صدر نے یوکرین کو دی جانے والی ملکی مالی امداد معطل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اب سے ''نیٹو فوجی اتحاد'' کے اراکین کیف کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کے لئے ''ادائیگی'' کیا کریں گے، امریکی صدر نے زور اعلان کیا کہ ہم (یوکرین کے لئے) مزید رقم خرچ نہیں کر رہے! رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ یاد رکھیں! میں 8 جنگیں ختم کروا چکا ہوں اور 9ویں جنگ بھی ختم کروانے والا ہوں.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔