’ٹرمپ قانون کو سیاست کیلئے استعمال کررہے ہیں‘، امریکا کے سینئر ترین جج احتجاجاً مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی وفاقی جج مارک ایل وولف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور قانون کے مبینہ سیاسی استعمال کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 50 سالہ عدالتی خدمات کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خاموش رہنا اب ممکن نہیں رہا۔
امریکی میڈیا کے مطابق 78 سالہ جج مارک ایل وولف نے ایک معروف اخبار میں شائع اپنے مضمون میں مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ جمہوریت کی بقاء اور انصاف کے نظام کی علامت ہے، لیکن صدر ٹرمپ قانون کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نہ صرف اپنے ناقدین کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ اپنے قریبی حامیوں اور سرمایہ کار دوستوں کو سزا سے بچانے کے لیے عدالتی نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جو امریکی انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارک ایل وولف کو 1985 میں اس وقت کے صدر رونالڈ ریگن نے وفاقی جج مقرر کیا تھا، اور وہ اپنی دیانت داری اور عدالتی غیر جانبداری کے حوالے سے نمایاں شہرت رکھتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔