امریکی سینیٹ میں فنڈنگ بل منظور، طویل شٹ ڈاؤن ختم ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
امریکی سینیٹ نے 60 کے مقابلے میں 40 ووٹوں سے ایک اہم فنڈنگ بل منظور کر لیا، جس سے 41 روز سے جاری تاریخ کے طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
بل کے تحت حکومت کو 30 جنوری تک فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔ اب یہ بل ایوانِ نمائندگان میں پیش ہوگا، جس کی منظوری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پر دستخط کریں گے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسا کرنے کو تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن سے صورتحال سنگین، ہزاروں پروازیں منسوخ، فضائی سفر مکمل رکنے کا خدشہ
تقریباً تمام ری پبلکن ارکان کے ساتھ آٹھ ڈیموکریٹس نے بھی بل کی حمایت کی۔ صرف ایک ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے مخالفت کی۔
سینیٹر سوزن کولنز نے کہا کہ ہم حکومت کو دوبارہ کھول رہے ہیں اور وفاقی ملازمین کو ان کا حق دلوا رہے ہیں۔
بل میں محکمہ زراعت، فوجی تعمیرات، قانون ساز اداروں، غذائی امداد اور وفاقی ملازمین کی بقایا تنخواہوں کے لیے فنڈنگ شامل ہے۔
دسمبر میں صحت کی سبسڈیوں میں توسیع پر ووٹنگ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، اس مسئلہ پر ڈیموکریٹس تقسیم تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرتے‘، امریکا میں 38 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن برقرار
41 روزہ شٹ ڈاؤن کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین تنخواہوں سے محروم، فضائی سفر متاثر اور کروڑوں شہری غذائی امداد کے خدشے سے دوچار رہے۔
ایوانِ نمائندگان بدھ سے بل پر بحث شروع کرے گا، جہاں ری پبلکنز کی محض 2 نشستوں کی اکثریت ہر ووٹ کو فیصلہ کن بناتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا حکومت شٹ ڈاؤن فنڈنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا حکومت شٹ ڈاؤن شٹ ڈاؤن
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔