امریکی تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے بل سینیٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی تاریخ کے سب سے طویل 41 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے امریکی سینیٹ نے سالانہ اخراجاتی بل منظور کرلیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں 60 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 40 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ حیران کن طور پر اپوزیشن ڈیموکریٹ کے 8 ارکان نے بھی بل کی حمایت کی، جس کے بعد حکومت کے دوبارہ فعال ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق بل کو نافذالعمل ہونے کے لیے ابھی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) سے حتمی منظوری درکار ہے، جہاں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
شٹ ڈاؤن کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین تنخواہوں کے بغیر کام کرنے پر مجبور تھے، خوراک کی امدادی پروگرام معطل اور ایئر ٹریول سسٹم بری طرح متاثر ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان سے بھی بل منظور ہوگیا تو امریکا میں طویل سیاسی بحران کے بعد سرکاری اداروں کا معمول بحال ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔