گورنر کے پی کا فیوچر سمٹ سے خظاب خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کراچی میں فیوچر سمیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے جسے درست سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے، میں تمام سرمایہ کاروں کو خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں۔ ہماری ترجیح ایسا ایکو سسٹم بنانا ہے جو سرمایہ کاری کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ درست سمت کا تعین اور ’کورس کریکشن‘ ہی ہمیں پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے تعاون، اعتماد اور طویل المدتی وژن ناگزیر ہیں۔
ہمیں کو ازسرِ نو متعین کرنا ہوگا، وزیر اعلیٰ سندھوزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں جدت اور پائیدار ترقی کی سمت میں اپنی راہِ عمل کو ازسرِ نو متعین کرنا ہوگا۔ سندھ متعدد شعبوں میں جدت کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کی اجازت درکار ہے۔
ہم نوجوانوں کو جدید تعلیم اور مہارتوں سے آراستہ کرکے ان کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ عوامی شعبہ نجی شعبے کو جدت اور ترقی کے قابل بنانے کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ترقی کا عزممراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ڈھانچہ سندھ میں سب سے بہتر ہے اور متعدد کامیاب منصوبے جاری ہیں۔ مستقبل اُنہی کا ہے جو تیزی سے تبدیلی کو قبول کرتے ہیں۔ ہم ترقی میں تیزی لانے کے پُرعزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کورس کریکشن‘ کا موضوع وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اپنی سمت کو ازسرِ نو متعین کرکے جدت اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔ عوامی شعبہ نجی شعبے کو جدت اور ترقی کے قابل بنانے کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا خطابوفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں پتہ ہو کہ کہاں جانا ہے تو ہم اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے ان کی منزل کا پوچھا تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی منزل بہت آسان ہے، ان کی خواہشات بہت سادہ ہیں۔ انہیں نوکری کی ضرورت ہے، اچھا پڑوسی ہو، بچے اچھے اسکول میں پڑھیں اور ماں باپ کا اچھے اسپتال میں علاج ہوسکے۔
صحت، ماحول اور پائیدار ترقی پر زوران کا مزید کہنا تھا کہ اسموگ کی وجہ سے زندگی کے 7 سے 8 سال کم ہوجاتے ہیں، جس کا پنجاب کے رہنے والوں کو سامنا ہوتا ہے۔ مضبوط اور صحت مند معاشرے کے لیے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔ نجی شعبے کی تیز رفتار اور وسیع توسیع کے ذریعے پائیدار ترقی، روزگار اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ بنے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔