اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ معطل WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی ڈی اے کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے دوران سی ڈی اے کی جانب سے ایڈوکیٹ کاشف علی ملک پیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ “جس کیس میں سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا حکم دیا گیا، اس میں استدعا کیا تھی؟”فریقین کے وکلا نے بتایا کہ ہماری درخواست میں صرف رائٹ آف وے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی، ادارہ تحلیل کرنے کی نہیں۔عدالت نے مزید پوچھا: “کیا آپ سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کے فیصلے کا دفاع کریں گے؟”اس پر وکلا نے جواب دیا کہ “نہ ہم نے ایسا مطالبہ کیا تھا، نہ ہی ہم اس فیصلے کا دفاع کریں گے۔”بعد ازاں عدالت نے بلدیاتی انتخابات اور سی ڈی اے کی تحلیل سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد: کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں سلینڈر دھماکا، وکلا اور سائلین زخمی اسلام آباد: کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں سلینڈر دھماکا، وکلا اور سائلین زخمی نئی دہلی دھماکہ: بھارتی سیاسی رہنما اور صحافیوں نے واقعہ کو “انتخابی فالس فلیگ” قرار دے دیا وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 خوارج کے افغانستان سے رابطے، فورسز کا آپریشن ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ قومی اسمبلی اجلاس: وزیر قانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا، اپوزیشن کا احتجاج افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، تعاون کیلئے تیار ہیں: وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ معطل اسلام ا باد
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔