سندھ بلڈنگ، گلشن اقبال رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات بے قابو
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ماحول اور شہری سہولیات پر سنگین اثرات،ڈی جی مزمل حسین ہالیپوٹو کی کارکردگی پر سوالات
اے ڈی آصف شیخ کی بلاک 5پلاٹ اے 328پر غیر قانونی تعمیرات پر مافیا کو چھوٹ
(جرأت رپورٹ)شہر کے نامور رہائشی علاقے گلشن اقبال میں رہائشی پلاٹوں کے تجارتی حصوں پر غیرقانونی تعمیرات کا خطرناک رجحان شدت اختیار کر گیا ہے ،جس کے باعث ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں ،مقامی ذرائع کے مطابق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کی ملی بھگت سے علاقے کے مختلف بلاکس 5, 6، ، 10، 13- میں واقع رہائشی پلاٹوں کے کمرشل پورشن پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ضوابط، اسٹیٹ ڈویژن کی الاٹمنٹ شرائط اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نقشوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں زمین سے زائد منزلیں، پارکنگ اسپیس پر دکانیں، اور فرنٹ/بیک یارڈز کو مکمل طور پر گرا کر تجارتی یونٹس کا قیام شامل ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق،مقامی شہری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر کا متعدد بار رخ کر چکے ہیں۔ تاہم، نہ تو غیر قانونی تعمیرات کو روکا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی نمایاں انہدامی کارروائی کا عمل نظر آ رہا ہے ۔ماہرین شہریات کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان پر فوری قابو نہ پایا گیا توعلاقے کا پانی کا زیر زمین پانی مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے ۔ ٹریفک کے مسائل ناقابل حل ہو جائیں گے ۔ علاقے میں موجودہ انفراسٹرکچر بجلی، گیس، سیوریج مکمل طور پر بیٹھ جائے گا۔مقامی رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کریں، تاکہ شہر کے رہائشی علاقوں کو بچایا جا سکے ۔زمینی حقائق کے مطابق بلاک 5 کے رہائشی پلاٹ A 328 پر انتظامیہ کی جانب سے خلاف ضابطہ تعمیرات کی مافیا کو چھوٹ دے دی گئی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے آصف شیخ سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن ہو سکا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی غیر قانونی تعمیرات سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔