کے پی امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا حکومت نے کل 12 نومبر کو ہونے والے امن جرگہ کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے اور ایپکس کمیٹی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جرگے میں بڑی سیاسی جماعتوں سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کا فیصلہ کیا ہے، جرگے کے شرکاء کو خصوصی پاس جاری کر دیے گئے۔ جرگے کے روز غیر متعلقہ افراد کی شرکت پر پابندی ہوگی، جرگے کے روز خصوصی سیکیورٹی پلان بنا لیا گیا ہے، اسمبلی میں 400 افراد کے بیٹھنے کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے آپریشن کے حوالے سے امن جرگہ بلایا گیا ہے۔ جرگہ کل خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہوگا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شرکت کریں گے جبکہ جرگے کی میزبانی اسپیکر بابر سلیم سواتی کریں گے، جرگے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جرگے کے لیے 20 سے زائد سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اے این پی، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز، جے یو آئی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، مسلم لیگ (ق) سمیت تمام سیاسی جماعتوں، بار کونسل، وکلاء اور سول سوسائیٹیز نے شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ جرگے کے لیے 400 کے قریب افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے اور جرگے کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے، جرگے کے روز غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی اور جرگے میں شرکت کرنے والوں کو خصوصی پاس جاری کیے گئے ہیں، جرگے میں 40 کے قریب تقاریر کی فہرست بنا لی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ جرگے اعلامیہ کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، وزیراعلیٰ اور اسپیکر اسمبلی مشترکہ طور پر اعلامیہ جاری کریں گے۔ اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جرگے کے فوراً بعد ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا جائے گا جس میں جرگے کا اعلامیہ پیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی اداروں جرگے کے لیے سمیت تمام کا فیصلہ گیا ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔