رانو ریچھ کو کراچی سے اسلام آباد منتقلی کیلئے روانہ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی کے چڑیا گھر میں موجود مادہ ریچھ “رانو” کو سندھ ہائیکورٹ کے احکامات پر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے اسے اگلے مرحلے میں گلگت بلتستان کے قدرتی جنگلات میں آزاد کیا جائے گا۔
منتقلی کے عمل کے دوران ماہرینِ جنگلی حیات اور ویٹرنری ڈاکٹرز بھی موجود تھے تاکہ رانو کی صحت اور طرزِ عمل پر گہری نظر رکھی جا سکے۔ روانگی سے قبل ریچھ کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے فولادی پنجرے میں منتقل کیا گیا، جس میں اس کی خوراک، آرام اور ردِ عمل کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔
کراچی کی فیصل بیس سے رانو ریچھ کو پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا جا رہا ہے۔ منتقلی کے دوران رانو کی نگرانی کے لیے ایک ٹیم بھی ہمراہ روانہ ہوئی ہے تاکہ سفر کے دوران اس کی حفاظت اور سکون کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق، یہ اقدام جانوروں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے اور ان کے قدرتی ماحول میں بحالی کے منصوبے کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔