اسلام آباد، ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-08-14
اسلام آباد ،راولپنڈی (صباح نیوز) ڈینگی کا پھیلا ئوجاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 42افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔ اسلام آباد میں 24 گھنٹوں کے دوران 23نئے ڈینگی کیسزرپورٹ ہوئے،ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاروا چیکنگ کے دوران 185 پازیٹو ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی،اسلام آباد کے مختلف اسپتالوں میں اس وقت ڈینگی کے 67 مریض زیرعلاج ہیں۔دوسری طرف گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران راولپنڈی میں 19 افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی ۔محکمہ صحت کے مطابق رواں برس ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 1361 ہوچکی ہے،اس وقت راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں ڈینگی کے 28مریض زیر علاج ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ڈینگی کے کے دوران
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔