طبی ادارے نے سیکڑوں زندہ افراد کو مردہ قرار دے کر لواحقین کو تعزیتی خطوط بھیج دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
امریکی ریاست ’مین‘ کے سب سے بڑے طبی ادارے ’مین ہیلتھ‘ کے حکام نے ان سینکڑوں افراد سے معذرت کی ہے جو زندہ ہیں مگر ان کے لواحقین کو ان کی موت پر تعزیتی خطوط موصول ہوئے۔
مزید پڑھیں: موت کے بعد بھی سکون نہ ملا، سدھو موسے والے کے مجسمے پر بھی فائرنگ
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپیوٹر نظام کی خرابی کے باعث ’مین ہیلتھ‘ کے حکام نے 500 سے زیادہ زندہ افراد کے لواحقین کو ان کی مبینہ موت کی اطلاع دینے کے لیے تعزیتی خطوط بھیج دیے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ غلط خطوط 20 اکتوبر کو 531 افراد کو بھیجے گئے۔
’مین ہیلتھ‘ کے حکام نے ایک تحریری بیان میں اس معاملے پر معذرت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اس غلطی پر دلی طور پر افسوس ہوا ہے۔
’یہ غلطی اس کمپیوٹر پروگرام کی وجہ سے ہوئی جو جائیداد سے متعلق وینڈرز کے لیے خطوط تیار کرتا ہے۔‘
حکام کے مطابق متاثرہ افراد کے طبی ریکارڈز میں انہیں مردہ قرار نہیں دیا گیا تھا، اور اب سسٹم کو درست کردیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔
مزید پڑھیں: خوراک کی تلاش میں موت: غزہ میں فائرنگ اور بھوک نے 134 زندگیاں نگل لیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’مین ہیلتھ‘ ایک غیر منافع بخش طبی ادارہ ہے جو مختلف اسپتال چلاتا ہے، یہ ادارہ مین اور نیو ہیمپشائر میں 20 ہزار سے زیادہ ملازمین رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تعزیتی خطوط زندہ افراد طبی ادارہ لواحقین معذرت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعزیتی خطوط زندہ افراد لواحقین وی نیوز تعزیتی خطوط مین ہیلتھ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔