WE News:
2026-07-24@15:10:19 GMT

پاکستان میں ججوں کے تبادلوں کی ضرورت کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

پاکستان میں ججوں کے تبادلوں کی ضرورت کیوں؟

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ججوں کے تبادلے اور تقرری کا منظم نظام عدالتی شفافیت اور غیر جانبداری کے لیے ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق جب کوئی جج ایک ہی ضلع میں طویل عرصہ خدمات انجام دیتا ہے تو وہ مقامی وکلا، پولیس اور بااثر طبقوں سے غیر رسمی تعلقات قائم کر لیتا ہے، جس سے عدالتی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے اور عوامی اعتماد میں کمی آتی ہے۔ باقاعدہ تبادلے نئی سوچ، تازگی اور غیر جانبداری کو یقینی بناتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی علاقے میں طویل عرصہ تعیناتی سے پسند و ناپسند یا جانبداری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً تبادلوں سے ان تعلقات کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں، جس سے شفافیت اور احتساب مضبوط ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کے بارے میں 7 بڑے پروپیگنڈے اور ان کے برعکس حقائق

جب تبادلے میرٹ پر اور غیر سیاسی بنیادوں پر ہوں تو عدالتی نظام میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے، اور ترقی و تعیناتی سفارش کے بجائے قابلیت اور دیانت پر مبنی ہوتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام کامیابی سے رائج ہے۔ فرانس اور جرمنی میں عدالتی کونسلیں خود ججوں کے تبادلے اور ترقی کا نظام چلاتی ہیں۔

جنوبی کوریا میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہر چند سال بعد ججوں کی تبدیلی کی جاتی ہے، جبکہ جاپان میں ہر 3 تا 5 سال بعد ججوں کو مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی نچلی عدلیہ کے ججوں کے تبادلے عام طور پر ہر 2 تا 3 سال بعد کیے جاتے ہیں، اور برطانیہ میں ’سرکٹ ججز‘ مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں تاکہ مقامی اثر سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:کسی کو 27ویں آئینی ترمیم پر حیرانی اور پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ایم کیو ایم پاکستان

اسی طرح ملیشیا، کینیا، نائیجیریا اور سری لنکا میں عدالتی کمیشن یا سپریم کورٹ ججوں کی باقاعدہ تبدیلی لازمی قرار دیتی ہے تاکہ مقامی دباؤ، کرپشن اور جانبداری سے بچاؤ ممکن ہو۔

ماہرین کے مطابق عدالتی آزادی کا مطلب صرف حکومت کے دباؤ سے آزاد ہونا نہیں بلکہ مقامی اثر و رسوخ سے بھی آزاد رہنا ہے، اور یہی ججوں کے میرٹ پر مبنی تبادلوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27 ویں ترمیم بنگلہ دیش جاپان ججز تبادلے کوریا ماہر قانون ملیشیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27 ویں ترمیم بنگلہ دیش جاپان ججز تبادلے کوریا ماہر قانون ملیشیا ججوں کے

پڑھیں:

چاندی کی قیمت میں کمی، فی تولہ 61 روپے سستی ہو گئی

کراچی: ملک بھر کے صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ چاندی مزید سستی ہو گئی۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 61 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 309 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی صرافہ بازار پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث چاندی کی قیمت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ردوبدل اور ڈالر کی قدر میں تبدیلی مقامی سطح پر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے، اسی لیے آنے والے دنوں میں بھی قیمتوں میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چاندی کی قیمت میں کمی، فی تولہ 61 روپے سستی ہو گئی
  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا