سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے جمعرات کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے عمل میں معروف بین الاقوامی ایئر لائنز کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی کو پی آئی اے سی ایل کی نجکاری، روزویلٹ ہوٹل اور ملک کے نمایاں ایئرپورٹس سے متعلق تازہ منصوبوں و پیش رفت، اور پریسژن انجینئرنگ کمپلیکس کی ملکیت پاکستان ایئر فورس کو منتقل کیے جانے کے عمل پر بریفنگ دی گئی۔

سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق،سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیرِ صدارت کمیٹی اجلاس نے پی آئی اے کی نجکاری میں معروف بین الاقوامی ایئر لائنز کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے آگاہ کیا کہ اگرچہ اس موقع کو خطے بھر میں مارکیٹ کیا گیا، تاہم علاقائی ایئر لائنز کسی مسابقتی ادارے میں سرمایہ کاری سے گریزاں رہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل اس وقت دوسری کوشش کے مرحلے میں ہے۔

شرائط و ضوابط حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان زیرِ بحث ہیں۔ چار کنسورشیمز نے عمل میں شرکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

تمام فریقین اس وقت پی آئی اے کے اثاثوں اور واجبات کا جائزہ لے رہے ہیں، باہمی اتفاقِ رائے کے بعد توقع ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی۔

دریں اثنا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس ایک دفاعی نوعیت کا ادارہ ہے جس میں 223 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ 381 ریٹائرڈ ملازمین کی واجبات بھی اس کے ذمے ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق، یہ کمپلیکس 200 ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور 1980 کی دہائی سے بوئنگ کے لیے طیاروں کے پرزے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے لیا

کمیٹی کے سربراہ کے سوال پر سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ اس کمپلیکس کی رواں سال کی آمدنی 39 کروڑ 70 لاکھ روپے رہی، جبکہ اخراجات 85 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے۔

’وفاقی کابینہ کے یکم مئی کے فیصلے کے مطابق پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس کی ملکیت، واجبات اور اثاثے پاکستان ایئر فورس کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

کمیٹی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ سائیڈ سروسز کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق پیش رفت پر بھی سوال اٹھایا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک ترک کمپنی نے ابتدائی طور پر بولی کے عمل میں حصہ لیا تھا مگر بعد میں حکومت کے ساتھ منافع کی شرح کے تناسب پر اختلافات کے باعث دستبردار ہوگئی۔

مزید بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ حکومت سے حکومت کی بنیاد پر اسلام آباد ایئرپورٹ کی لینڈ سائیڈ سروسز کے انتظام کے لیے معاہدہ زیرِ غور ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے سفارش کی کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی لینڈ سائیڈ سروسز کو کسی قابلِ اعتماد بین الاقوامی کمپنی کے سپرد کیا جائے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق مؤثر اور معیاری خدمات فراہم کر سکے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کو چلانا نہیں بیچنا میری ذمہ داری، لیکن اونے پونے فروخت نہیں کرسکتے، وزیر نجکاری عبدالعلیم خان

روزویلٹ ہوٹل، نیویارک سے متعلق بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالیاتی و رئیل اسٹیٹ مشاورتی فرم جے ایل ایل نے 6.

5 لاکھ مربع فٹ پر مشتمل، 17 منزلہ عمارت کی ڈیو ڈیلیجنس اور لین دین کا ڈھانچہ تیار کیا۔

فرم نے پاکستان حکومت کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کا ماڈل تجویز کیا جس میں متبادل راستے بھی شامل تھے۔

یہ تجویز 8 جولائی کو وفاقی کابینہ نے منظور کر لی، تاہم بعد ازاں فرم نے مفادات کے ٹکراؤ کے باعث اپنی خدمات واپس لے لیں۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری نہ ہونے کی صورت میں ملک کو مزید کتنا نقصان ہوگا؟

جس کی وجہ سے حکومت اب ایک نئی مالیاتی مشاورتی فرم کی خدمات حاصل کرنے کے عمل میں ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری پر اطمینان کا اظہار کیا، جسے متحدہ عرب امارات کی کمپنی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی نے اس کے تمام واجبات اور ملازمین سمیت حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریٹائرڈ پی آئی اے ملازمین کی پنشن سے متعلق زیرِ التوا شکایات فوری طور پر حل کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایئرلائن پی آئی اے سینیٹ قائمہ کمیٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئرلائن پی ا ئی اے سینیٹ قائمہ کمیٹی پی آئی اے کی نجکاری ئی اے کی نجکاری بین الاقوامی بتایا گیا کہ ایئر لائنز پی ا ئی اے کے مطابق کمیٹی کو کا اظہار کے لیے کے عمل

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش