فوج و سلامتی اداروں کیخلاف کسی مہم کو قبول نہیں کریں گے: طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے دفاع کیلئے سپہ سالار کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، آپ مودی ہاتھ پر بیعت کرتے تو کریں آپ کو مودی مبارک ہو، جہاد ہے میدان میں اگر ضرورت پڑی تو حاضر ہیں، دفاع سلامتی و استحکام کیلئے مدارس محراب و منبر حاضر ہیں، پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس ہوا جس کا بنیادی مقصد ملکی حالات پر غور و خوض کرنا تھا۔ فلسطین سوڈان و کشمیر کے مسئلہ داخلی مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستان علماء کونسل ملک گیر سطح پر مہم شروع کر رہے ہیں جس کا مقصد خلافت راشدہ کا نظام لانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی جامع مسجد بلال رحمان پورہ، رانی پنڈ ہربنس پورہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ خلافت راشدہ میں انصاف کیلئے دھکے نہیں کھانے پڑتے، اسلا م آباد میں جج کے بیٹے نے دو بیٹیوں کو گاڑی کے نیچے کچل دیتے اور جج کے دو سیب چوری ہوئے تو مقدمہ درج ہوگیا، جس جج کے بیٹے نے دو بیٹیوں کو کچلا اور جج کے دو سیب چوری کا مقدمہ درج کروایا وہ کیسے انصاف دے گا۔ فتویٰ یا گالیاں دینے سے انصاف کا نظام بہتر نہیں ہو گا۔ ہمارا کام اللہ نے قرآن میں بتا دیا ہے جو غیر شرعی کام کرے گا اس کی اصلاح کی کوشش کرینگے‘ نیکی کے کاموں میں تعاون اور غیر شرعی کام میں محاسب کا کام ہے۔ کیا پاکستان کے فیصلے چند یوٹربرز اور سوشل میڈیا نے کرنے ہیں۔ استثنیٰ کا معاملہ پر میں سوال کرتا ہوں احتساب کا نظام شرعی ہے یا غیر شرعی ہے پہلے کہتے چور ہیں، پھر اسے اقتدار میں بٹھا دیتے ہیں، فوج و سلامتی اداروں کے خلاف کسی مہم کو قبول نہیں کریں گے، اس کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔