وٹس ایپ ہیکنگ کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
وٹس ایپ ہیکنگ کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے وٹس ایپ صارفین کو ہیکنگ کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کسی قسم کے غیرمتوقع حالات سے بچنے کے لیے فوری اقدامات تجویز کردیے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے وٹس ایپ صارفین کو بتایا ہے کہ اگر آپ اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کھو دیتے ہیں یا آپ کو شک ہے کہ کوئی اور اسے استعمال کر رہا ہے تو فوری اقدامات کرتے ہوئے دوبارہ رجسٹر کریں۔
این سی سی آئی اے نے ہیکنگ کی صورت میں فوری اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ واٹس ایپ کو ان انسٹال (Uninstall) کر کے دوبارہ انسٹال کریں، لاگ ان کرنے کے لیے اپنا فون نمبر درج کریں، جس پر آپ کو ایس ایم ایس کے ذریعے 6 ہندسوں کا کوڈ موصول ہوگا، اسے فوراً درج کریں۔
مزید بتایا کہ کوڈ درج کرتے ہی ہیکر کے موبائل سے آپ کا واٹس ایپ فوراً لاگ آؤٹ ہو جائے گا کیونکہ واٹس ایپ ایک وقت میں صرف ایک موبائل پر ایکٹو رہ سکتا ہے۔
این سی سی اے نے ہیکرز سے بچانے کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن کے انتظار سے گھبرائیں نہیں کیونکہ اگر ہیکر نے “Two-Step Verification” آن کر دی ہے اور آپ کو PIN نہیں معلوم تو واٹس ایپ آپ کو 7 دن انتظار کرنے کا کہہ سکتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے کہا کہ پریشان نہ ہوں! جب تک آپ نے ایس ایم ایس کوڈ درج کر دیا ہے، ہیکر لاگ آؤٹ ہو چکا ہے، اس انتظار کے دوران کوئی بھی آپ کا اکاؤنٹ استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی پیغامات پڑھ سکتا ہے،
ای میل کے ذریعے ریکوری
این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اگر آپ نے پہلے ای میل ایڈریس لنک کیا ہوا تھا، تو “Forgot PIN” پر کلک کریں اور انتظار کیے بغیر فوراً اپنا PIN ری سیٹ کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشایان جہانگیر کی 99 رنز کی شاندار اننگز، دبئی کیپیٹلز کی نائٹ رائیڈرز کے خلاف سنسنی خیز فتح پرویزمشرف کی جلا وطنی و تنہائی اور فیض حمید کی سزائے قیدخوشی کا نہیں ، عبرت کا مقام ہے،خواجہ سعدرفیق ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کیلئے عمر کی قید 18کے بجائے 16سال کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع پاکستان بار کونسل کی پنجاب کی 11میں سے 8نشستوں پرعاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب پاکستان کے معروف اسٹنٹ مین سلطان گولڈن نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا،وزیراعلی بلوچستان کا 5کروڑ انعام کا اعلان نوازشریف نے ملک میں خدمت کی سیاست کو فروغ دیا،وفاقی وزیر اطلاعات اس وقت ملک میں گلا سڑا نظام چل رہا ہے جو نوجوان کو مایوس کر رہا ہے،حافظ نعیم الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے وٹس ایپ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :