حج آپریشن کے دوران خدامُ الحجاج بھرتی ,شہریوں کیلئے اہم انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
شاہد سپرا:حج 2026 کے آپریشن کے دوران خدامُ الحجاج کی بھرتی کے حوالے سے جعلساز سرگرم ہو گئے ہیں۔
وزارتِ مذہبی امور نے درخواست گزاروں اور عوام کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ جعلساز کیسے دھوکا دے رہے ہیں؟
مختلف جعلی آرگنائزیشنز خود کو وزارت سے منظور شدہ ظاہر کر رہی ہیں,اخبارات میں جعلی اشتہارات بھی دیئے گئے ہیں,موبائل نمبرز کے ذریعے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹریس کرنا مشکل ہو۔
وزارتِ مذہبی امور کی ہدایات کے مطابق صرف منظورشدہ کمپنیوں کے ذریعے درخواست جمع کروائیں،موبائل فون پر رابطہ نہ کریں ، ہمیشہ لینڈ لائن نمبر پر تصدیق کریں،درخواست دینے سے پہلے کمپنی کا ریکارڈ وزارت کے آفیشل چینلز سے لازماً چیک کریں۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
جعلی بھرتیوں میں پیسے اور دستاویزات دونوں کا نقصان ہوتا ہے،اصل بھرتی کا عمل سختی سے وزارت کی نگرانی میں کیا جاتا ہے، کوئی شارٹ کٹ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔