کلیم اختر : سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے عوام کو جعلی اور غیر مجاز آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، موبائل ایپس اور ویب سائٹس سے سختی سے خبردار کر دیا ہے جو لائسنس یافتہ بروکرز کے نام پر فراڈ میں ملوث ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق غیر قانونی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز ’’یقینی منافع‘‘ کا لالچ دے کر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔
یہ جعلی ایپس صارفین کو متاثر کرنے کے لیے فرضی بیلنس، مصنوعی منافع اور جعلی اسٹیٹمنٹس دکھاتی ہیں، تاہم کچھ رقم نکلوانے کی اجازت دینے کے بعد اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔

ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد

 سوشل میڈیا پر غیر مجاز ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی بڑے پیمانے پر تشہیر جاری ہے، جہاں فراڈیے فن فلوئنسرز، بروکرز اور معروف اداروں کے نام کا غلط استعمال کر رہے ہیں,یہ جعل ساز “فری ٹپس”، “سرمایہ کاری کلاسز” اور “ماہرین کا مشورہ” جیسے حربے استعمال کرکے شہریوں کو ورغلاتے ہیں۔

ایس ای سی پی نے شہریوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ غیر لائسنس یافتہ افراد اور کمپنیوں کو کبھی بھی رقم نہ دیں,سرمایہ کاری سے پہلے ہر پلیٹ فارم کی تصدیق لازمی کریں,مجاز اور رجسٹرڈ بروکرز کی فہرست ایس ای سی پی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کی ویب سائٹس پر موجود ہے,نامعلوم افراد یا مشتبہ پلیٹ فارمز کو ذاتی یا مالی معلومات فراہم نہ کریں,“یقینی منافع” یا “100% گارنٹیڈ ریٹرن” دینے والے پلیٹ فارمز ہمیشہ فراڈ ثابت ہوتے ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

ایس ای سی پی نے واضح کیا کہ غیر قانونی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز عوام کی محنت کی کمائی کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے شہری احتیاط اور تصدیق کے بغیر کسی بھی سرمایہ کاری پلیٹ فارم پر بھروسہ نہ کریں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ٹریڈنگ پلیٹ فارمز ایس ای سی پی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی