ایس ای سی پی کا انتباہ , جعلی آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز سے ہوشیار رہیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
کلیم اختر : سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے عوام کو جعلی اور غیر مجاز آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، موبائل ایپس اور ویب سائٹس سے سختی سے خبردار کر دیا ہے جو لائسنس یافتہ بروکرز کے نام پر فراڈ میں ملوث ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق غیر قانونی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز ’’یقینی منافع‘‘ کا لالچ دے کر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔
یہ جعلی ایپس صارفین کو متاثر کرنے کے لیے فرضی بیلنس، مصنوعی منافع اور جعلی اسٹیٹمنٹس دکھاتی ہیں، تاہم کچھ رقم نکلوانے کی اجازت دینے کے بعد اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
سوشل میڈیا پر غیر مجاز ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی بڑے پیمانے پر تشہیر جاری ہے، جہاں فراڈیے فن فلوئنسرز، بروکرز اور معروف اداروں کے نام کا غلط استعمال کر رہے ہیں,یہ جعل ساز “فری ٹپس”، “سرمایہ کاری کلاسز” اور “ماہرین کا مشورہ” جیسے حربے استعمال کرکے شہریوں کو ورغلاتے ہیں۔
ایس ای سی پی نے شہریوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ غیر لائسنس یافتہ افراد اور کمپنیوں کو کبھی بھی رقم نہ دیں,سرمایہ کاری سے پہلے ہر پلیٹ فارم کی تصدیق لازمی کریں,مجاز اور رجسٹرڈ بروکرز کی فہرست ایس ای سی پی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کی ویب سائٹس پر موجود ہے,نامعلوم افراد یا مشتبہ پلیٹ فارمز کو ذاتی یا مالی معلومات فراہم نہ کریں,“یقینی منافع” یا “100% گارنٹیڈ ریٹرن” دینے والے پلیٹ فارمز ہمیشہ فراڈ ثابت ہوتے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
ایس ای سی پی نے واضح کیا کہ غیر قانونی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز عوام کی محنت کی کمائی کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے شہری احتیاط اور تصدیق کے بغیر کسی بھی سرمایہ کاری پلیٹ فارم پر بھروسہ نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریڈنگ پلیٹ فارمز ایس ای سی پی
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔