این سی سی آئی اے میری الیکٹرانک ڈیوائسز، موبائل، کریڈٹ کارڈز، رقم واپس دے، ڈکی بھائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
این سی سی آئی اے میری الیکٹرانک ڈیوائسز، موبائل، کریڈٹ کارڈز، رقم واپس دے، ڈکی بھائی WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس) ضلع کچہری لاہور میں ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، الیکٹرانک ڈیوائسز اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کے کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر این سی سی آئی اے کو مزید 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے ڈکی بھائی کی سپرداری کی درخواست پر سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔
پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ اس کیس کا پہلا تفتیشی افسر جیل میں بند ہے، اس تفتیشی افسر سے تمام معلومات لینی ہے۔
وکیل ڈکی بھائی نے کہا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے جو الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، میرے 4 کریڈٹ کارڈ اور رقم ہمیں حوالے کی جائے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کیس پر سماعت کی، ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کیس قابل سماعت قرار جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کیس قابل سماعت قرار عدالتی اصلاحات کے ثمرات، ہائیکورٹ میں ایک ماہ میں 18 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا کچی آبادی مسلم کالونی میں سی ڈی اے آپریشن روکنے کا حکم الیکشں کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ایبٹ آباد: مقتول ڈاکٹر سپرد خاک، مرکزی ملزمہ کی نشاندہی پر مزید 3 ملزمان گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے ڈکی بھائی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔