Express News:
2026-06-03@02:45:02 GMT

 رواں برس جرائم میں کمی کے پولیس کے دعوے دھرے رہ گئے

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

رواں سال کے گیارہ مہینے گزر چکے ہیں، لیکن شہر میں اسٹریٹ کرائم بدستور بے قابو ہے، پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیادوں پر جاری سرچ آپریشنز، کومنگ آپریشنز ، اسنیپ چیکنگ اور مبینہ پولیس مقابلوں کے باوجود شہری عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیئے اور اس دوران شہر کی گلیاں، سڑکیں اور رہائشی علاقے جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ جبکہ شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتے رہے ہیں۔

 اس عرصے میں جرائم کی نوعیت کی تعداد اور اس کی شدت پولیس افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائم سمیت دیگر جرائم کی وارداتوں میں کمی کے دعوے زمینی حقائق سے بالکل برعکس دکھائی دیئے ، رواں سال کے 11 ماہ کے دوران شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز سے محروم کر دیا گیا ، جرائم پیشہ عناصر نہ صرف مصروف شاہراہوں بلکہ رہائشی علاقوں ، گلیوں اور محلوں میں بھی آزادانہ کارروائیاں کرتے رہے۔

سی پی ایل سی کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 11 مہینوں میں مجموعی طور پر شہری 2 ہزار 275 اپنی قیمتی گاڑیوں سے محروم کر دیئے گئے جس میں 285 گاڑیاں چھینی جبکہ 1990 گاڑیاں چوری کرلی گئیں۔

 اسی طرح سے رواں سال کے 11 ماہ کے دوران متوسط طبقے کی سواری موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی کے واقعات بھی عروج پر رہے جس میں شہریوں کو مجموعی طور پر 41 ہزار 700 سے زائد موٹر سائیکلوں سے محروم ہونا پڑا جس میں 6 ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں چھینی جبکہ 35 ہزار 700 سے زائد موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔ رواں سال کے 11 مہینوں کے دوران اسٹریٹ کرمنلز نے شہریوں کو مجموعی طور پر لاکھوں روپے مالیت کے 15 ہزار سے زائد موبائل فونز سے محروم کر دیا جس میں جبکہ 11 ماہ کے دوران شہر میں جاری قتل و غارت گری کے واقعات میں مجموعی طور پر 509 سے زائد جانیں بے رحمی سے چھین لی گئیں جس میں ڈکیتی مزاحمت ، ذاتی رنجش ، دشمنی اور لڑائی جھگڑوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ اور گھریلو تنازعات بھی شامل ہیں۔

رواں سال کے 11 ماہ میں اغوا برائے تاوان کے 12 واقعات رونما ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اغوا کاروں کے منظم گروہ اب بھی شہر میں سرگرم ہیں اور وہ اپنے ہدف کو شکار کرنے میں مہارت بھی رکھتے ہیں تاہم پولیس کی جانب سے ان اغوا کار گروہوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں جس میں پولیس مقابلوں میں وہ مارے بھی جا چکے ہیں یا زخمی حالت میں دیگر ساتھویں کے ہمراہ گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ بھتہ خوری کے مجوعی طور پر 75 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جس میں سب سے زیادہ 18 واقعات اکتوبر میں سامنے آئے۔

 جس میں بھتہ خوروں نے بزنس کمیونٹی ، چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو مختلف غیر ملکی نمبروں سے دھمکی آمیز کالیں کر کے بھتے کا مطالبہ کیا اور دینے پر انھیں گھروں و زیر تعمیر منصوبوں پر فائرنگ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور ان بھتہ خوری کے واقعات پر تاجر برداری کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ پولیس کی جانب سے بھی بھتہ خوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں جس میں کچھ بھتہ خور اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیئے گئے اور دیگر کو مقابلوں کے دوران زخمی حالت میں دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار بھی کرلیا گیا۔

پولیس افسران کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن جب زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے، اس بات سے بھی انکار نہیں کہ پولیس کی جانب سے روز کی بنیاد پر مقابلوں میں جرائم پیشہ عناصر کو زخمی حالت میں ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کیا جاتا رہا لیکن لوٹ مار کی وارداتوں کا بھی تسلسل بدستور جاری رہا، جس میں گھروں اور دکانوں میں گھس کر لوٹ مار کی وارداتوں کے علاوہ سر راہ گلیوں ، محلوں اور مصروف شاہراہوں پر اسٹریٹ کرمنلز اپنے ہدف کا آزادانہ نشانہ بنا کر نقدی ، موبائل فون ، گاڑی یا موٹر سائیکل سے شہریوں کو محروم کر جاتے ہیں اور یہ تضاد شہریوں کے لیے سوالات چھوڑ جاتا ہے کہ کیا پولیس کے اقدامات واقعی مؤثر ہیں؟

سی پی ایل سی کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ کے دوران جنوری میں شہریوں سے 31 گاڑیاں چھینی گئیں ، 151 چوری کرلی گئیں ، 617 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3413 کو چوری کرلیا گیا جبکہ شہریوں کو 1585 موبائل فونز سے بھی محروم کر دیا گیا ، فرروی میں 36 گاڑیاں چھینی ، 159 چوری ، 549 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3224 کو چوری کرلیا گیا اس کے علاوہ شہریوں کے 1402 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے ، مارچ میں 21 گاڑیاں چھینی ، 139 چوری ، 574 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3605 چوری کرلی گئیں جبکہ اسی مہینے میں 1312 موبائل فونز بھی چھینے گئے۔

 اپریل میں 19 گاڑیاں چھینی ، 131 چوری ، 569 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3176 کو چوری کرلیا گیا جبکہ شہریوں سے 1364 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے ، مئی میں 31 گاڑیاں چھینی ، 166 چوری ، 702 موٹر سائیکل چھینی اور 3292 کو چوری کیا گیا جبکہ 1489 موبائل فونز سے شہری محروم بھی کر دیئے گئے ، جون میں 23 گاڑیاں چھینی ، 115 چوری ، 585 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں اور 3298 کو چوری کرلیا گیا جبکہ شہریوں سے 1436 موبائل فون بھی چھین لیے گئے ، جولائی میں 22 گاڑیاں چھینی ، 197 چوری ،502 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3357 چوری کرلیا گیا جبکہ اس مہینے میں شہریوں کو 1603 موبائل فونز سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ، اگست میں 31 گاڑیاں چھینی ، 204 چوری ، 507 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3332 چوری کرنے کے ساتھ شہریوں کو 1480 موبائل فونز سے بھی محروم ہونا پڑا ، ستمبر میں 27 گاڑیاں چھینی ، 172 چوری ، 517 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3181 کو چوری کرلیا گیا جبکہ 1542 موبائل فونز چھین بھی لیے گئے ، اکتوبر میں 25 گاڑیاں چھینی ، 153 چوری ، 565 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3119 کو چوری کرلیا گیا جبکہ اسی مہینے میں شہریوں سے 1662 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے، نومبر میں 19 گاڑیاں چھینی ، 137 چوری ، 390 موسائیکلیں چھینی اور 2750 چوری کرلی گئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رواں سال کے 11 ماہ بھی چھین لیے گئے پولیس کی جانب سے موبائل فونز سے چوری کرلی گئیں موٹر سائیکلوں گاڑیاں چھینی ماہ کے دوران جبکہ شہریوں میں شہریوں شہریوں سے شہریوں کو سے بھی

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب