اے آئی کیمروں کا کمال: کراچی سے چھینی اور چوری شدہ 150 گاڑیاں کیسے ٹریس ہوئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سندھ حکومت کے نئے منصوبے ایس 4 کے جدید اے آئی کیمروں کی مدد سے کراچی سے چھینی یا چوری کی گئی 150 سے زائد گاڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک خاتون سمیت 200 ملزمان کو چوری اور چھینا جھپٹی کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ جدید اے آئی کیمرے چہروں اور نمبر پلیٹس کی شناخت کرتے ہیں اور مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ چوری شدہ گاڑیاں یا مطلوبہ ملزمان جیسے ہی ان راستوں سے گزرتے ہیں، کیمرے خود بخود ان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کراچی میں ایس فور کیمروں کے ڈیٹا بینک میں تمام چوری شدہ گاڑیوں اور ملزمان کا ریکارڈ شامل ہے، جس کے بعد سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول عملہ فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑیاں برآمد اور ملزمان گرفتار کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔