راولپنڈی : لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کے کیس میں گرفتار ملزمان کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
راولپنڈی میں نوجوان لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کے مقدمہ میں عدالت نے دو مرکزی ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔
ملزمان انیس عرف درانی اور جلیل خان کے وکیل وقاص ملک نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے کسی قسم کی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی، ملزمان کا اس واقعہ میں کوئی کردار نہیں، مقدمے میں شامل تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔
ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری جوڈیشل مجسٹریٹ صوفیہ ملک نے منظور کی، عدالت نے دونوں ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد: بیوٹی سیلون میں کام کرنے والی لڑکی پر تشدد، بال کاٹ دیےپولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بیوٹی سیلون کے مالکان اور بااثر افراد نے لڑکی پر تشدد کیا، تشدد کے دوران لڑکی کے بال کاٹ دیے گئے۔
یاد رہے کہ انیس خان اور جلیل خان کو گزشتہ روز 14دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوایا گیا تھا، تاہم آج سماعت کے دوران ان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی گئی۔
ملزمان کے خلاف 25 نومبر کو تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے اور تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لڑکی پر تشدد کی ضمانت
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔