بند کمرہ فیصلوں سے خیبرپختونخوا عوام کو نقصان پہنچا: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور:( نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کو نقصان پہنچا۔پشاور میں بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے علاقہ تیراہ میں میری ذاتی زمین نہیں خاندانی زمین ہے، میرے حوالے سے باتیں توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کارکردگی کے باعث ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی، قبائلی اضلاع کا شیئر اور صوبے کے دستیاب وسائل پر کارکردگی دکھائی تب ہی حکومت میں آئے، قبائلی اضلاع کو 2018 میں کے پی میں ضم کیا گیا لیکن فنڈز نہیں دیے گئے، این ایف سی ایوارڈ کا 2018 سے 2025تک خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کارکردگی سے متعلق سوال تو وفاقی حکومت سے کرنا چاہیے ، 25 لاکھ سے زائد لوگ پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں، کاروباری طبقہ ملک چھوڑ رہا اور پریشان ہے، منگل کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو اُس کے بعد لائحہ عمل بنایا جائے گا،4 نومبر سے عمران خان کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے،اُن سے بہنوں اور ذاتی معالج کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امن و امان کےلئے جو حل ہم بتارہے ہیں اِس سے اَمن بحال ہو گا، بند کمروں کے فیصلوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کو نقصان پہنچا، 2018 میں دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان ہوا تو اُس کے بعد دہشت گرد واپس آئے، جب کہ اُن کا کہنا تھا پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔
بابر سلیم سواتی
سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کےلئے خیبرپختونخوا حکومت کی بات ماننی پڑے گی، اس ملک میں مختلف ادارے ہیں فوج کو انڈیا نہیں بلکہ پاکستان کی فوج سمجھتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پورے پاکستان سے ممبران اسمبلی ، صحافی ،کاروباری افراد نیشنل فورم پر جاتے ہیں ،کسی بھی فورم میں اداروں کے سربراہ آتے ہیں ہمارے ممبران اسمبلی سے عہدیدار ہونے کی حیثیت سے فورم میں شرکت کی۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی۔
سہیل آفریدی نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر رات بھر کے دھرنے کے بعد عدالت جانے والے وزیرِ اعلیٰ کے پی سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ نے مجھے کیوں روکا؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پولیس افسران سے سوالاس موقع پر سہیل آفریدی نے پولیس افسران سے سوال کیا آپ نے مجھے کیوں روکا؟ ہم ڈیڑھ سال سے قانون اور آئین کا احترام کر رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکے ہیں، ایسا کون سا راستہ بچا ہے جس کے بعد ہم اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر عدالت انصاف نہ کر پائے تو عوام خود انصاف کریں گے، عوام انصاف کریں گے تو قانون بھی ہاتھ میں لیں گے، حالات خراب ہوئے تو کنٹرول نہیں ہوسکیں گے۔