عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل افریدی نے کہا کہ 4 نومبر سے بانی چیئرمین کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے اور ان سے بہنوں اور ذاتی معالج کی ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل افریدی نے پشاور میں اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بار بار درخواست کی گئی کہ بانی پی ٹی سے بہنوں یا پارٹی کے کسی رہنما سے ملاقات کروائی جائے لیکن ہمیں اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ منگل کے روز تمام اراکین اسمبلی دوبارہ اڈیالہ گئے لیکن ملاقات کے لیے اجازت نہیں ملی۔
این ایف سی میٹنگ میں شرکتسہیل افریدی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ این ایف سی میٹنگ میں شرکت کی جائے گی۔ قبائلی اضلاع کو 2018 میں خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا لیکن تاحال فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔
میرا مشورہ ہے کہ میں شفیع جان بھائی (معاون خصوصی برائے اطلاعات پختونخواہ) سے درخواست کروں گا کہ وہ ایک ہفتے کیلئے “انکی” ٹیوشن کلاسز لیں تاکہ “انکو” بات کرنے کا طریقہ آجائے، وزیر اعلی سہیل آفریدی کا اپنے آبائی علاقے وادی تیرہ اور خود پر لگائے جانے والے حالیہ الزامات سے متعلق سوال… pic.
— Waseem Malik (@iwaseemmalik) November 30, 2025
انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2025 تک خیبر پختونخوا کا این ایف سی میں حصہ نہیں دیا جا رہا اور ایوارڈ 3 صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق سات سال میں ایک ہزار تین سو پچاس ارب روپے خیبر پختونخوا کو نہیں دیے گئے۔ این ایف سی ایوارڈ نہ ملنے پر کل صوبے کی تمام یونیورسٹیوں میں سیمنار منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو آگاہ کیا جا سکے۔
تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اپنا حق لیا جائےانہوں نے کہا کہ اسپیکر کو بتایا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اپنا حق لیا جائے۔ این ایف سی ایوارڈ صرف سہیل افریدی کا نہیں بلکہ پورے خیبرپختونخوا کا حق ہے۔ یہ صرف صوبائی حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کی ذمہ داری ہے کہ این ایف سی پر بات کریں۔ مذہبی جماعتیں، ڈاکٹرز، وکلا اور دیگر شعبہ جات بھی مل کر آواز اٹھائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اڈیالہ کا مجاور ہے، عظمیٰ بخاری وزیر اطلاعات پنجاب
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا پارٹی قیادت کی ذمہ داری ہے لیکن بطور کارکن بھی احتجاج کیا۔ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہیلی کاپٹر میں لے جایا جاتا ہے لیکن میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا گیا۔ ہمارے پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیر کے روز تمام پارلیمنٹرین اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے جبکہ کارکن صوابی میں احتجاج کریں گے۔
تیراہ میں ہماری خاندانی زمین کے علاوہ میری کوئی ذاتی زمین نہیں۔ اس کے علاوہ جو ڈرانے بازی کی جارہی ہے یہ ہمارے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ اپنے کام سے کام رکھیں، وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی pic.twitter.com/57mKissfyb
— Insaf TV (@InsafPKTV) November 30, 2025
سہیل افریدی نے کہا کہ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں میری زمین ذاتی نہیں بلکہ خاندانی ہے۔ میرے حوالے سے باتیں اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
حکومتی کارکردگی اور وسائلان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاتھ سے آدھا خیبرپختونخوا نہیں گیا، یہاں کارکردگی ہو رہی ہے اسی لیے ہمیں 3 مرتبہ حکومت ملی۔ قبائلی اضلاع کے شیئرز اور صوبے کے وسائل پر کارکردگی دکھائی تو حکومت ملی، کارکردگی سے متعلق سوال وفاقی حکومت سے ہونا چاہیے۔
معاشی اور سماجی چیلنجزوزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 25 لاکھ سے زائد لوگ پاکستان چھوڑ چکے ہیں، کاروباری طبقہ بھی ملک چھوڑ رہا ہے اور پریشان ہے۔ منگل کو ملاقات نہ ہوئی تو اس کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ امن و امان کے حوالے سے جو حل ہم بتا رہے ہیں اس سے امن بحال ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے اچھے کام کیے تو ہم حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کو نقصان ہوا۔ 2018 میں دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان ہوا لیکن اس کے بعد دہشت گرد واپس آئے۔ دیرپا امن کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کی بات ماننا ہوگی۔
فوج کو انڈیا کی فوج نہیں بلکہ پاکستان کی فوج سمجھتے ہیںبابر سلیم سواتی نے کہا کہ اس ملک میں مختلف ادارے موجود ہیں اور فوج کو انڈیا کی فوج نہیں بلکہ پاکستان کی فوج سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان سے اراکین اسمبلی، صحافی اور کاروباری افراد نیشنل فورمز میں شرکت کرتے ہیں۔ کسی بھی فورم پر اداروں کے سربراہ موجود ہوں تو ہمارے ممبران اسمبلی بھی اپنی حیثیت کے مطابق شرکت کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئسولیشن پاکستان سہیل آفریدی عمران خان قید تنہائی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئسولیشن پاکستان سہیل ا فریدی قید تنہائی وزیراعلی خیبرپختونخوا انہوں نے کہا کہ سہیل افریدی نے سہیل ا فریدی ایف سی نہیں بلکہ کی فوج
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔