غیر قانونی سرگرمیوں کیخلاف کارروائی سے کاروبار متاثر ہوگا، جے یو آئی نظریاتی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں جے یو آئی نظریاتی کے رہنماؤں نے کہا کہ فوجی، بیوروکریٹ اور پولیس افسران کی غیر قانونی گاڑیوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، عام عوام کیخلاف کارروائی ہوتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کو عوام کی معیشت کو نقصان پہنچانے سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ایران سے اسمگل ہونے والی تیل کے خلاف کارروائی اور چمن پاک افغان بارڈر سے آمدورفت کے لئے پاسپورٹ کو لازمی قرار دیکر عوام سے روزگار چھین رہی ہے۔ ان کارروائیوں سے معیشت متاثر ہوگی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں اپنے بیان میں جمعیت نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی، صوبائی جنرل سیکرٹری حافظ عبدالاحد کبدانی و دیگر نے حکومت کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیخلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی، بیوروکریٹ اور پولیس افسران بھی ہزاروں غیر قانونی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر انہیں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال کرنے دیا جا رہا ہے، تو پھر عام آدمی کو کیوں اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ حکمران اور ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے دہشت گردی اور معاشی بحران اور بدامنی کا ملبہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمت آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ عوام مجبوری کے تحت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام سے روزگار چھینا جا رہا ہے۔ پابندی سے ہزاروں لوگوں کا کاروبار متاثر ہوگا۔ ملک کی معیشت بہتر بنانے کے لیے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروای کی بجائے، ملک کو لوٹ کر باہر بینک بیلنس، پراپرٹیاں اور آفشور کمپنیوں کے مالکان سے احتساب کیا جائے۔ پہلے فوج، بیورکریٹ، پولیس آفیسر کی لگژری نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صرف غریب شہریوں اور تاجروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے، منشیات اور اسلحے کا کاروبار سرعام ہو رہا ہے۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر کی بندش، نان کسٹم گاڑیوں کی خلاف کارروائیوں اور ایرانی تیل پر پابندیوں عوام سے دو وقت کی روٹی چھین رہا ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کے خلاف کارروائی گاڑیوں کی نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔