غزہ میں عالمی فورس میں پاک فوج کی شمولیت، جناب محمد حسین محنتی کا اہم انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
امریکی منصوبے کے تحت غزہ فلسطین میں عالمی فورس کی تعیناتی کے پس پردہ مقاصد؟ عالمی فورس کا منصوبہ امریکی ہے یا اسرائیلی؟ عالمی فورس غزہ میں کیا کریگی؟ کیا پاکستان کو غزہ میں عالمی فورس کے تحت بھیجنا چاہیئے؟ و دیگر متعلقہ اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما محمد حسین محنتی کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کے ساتھ شیئر بھی کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںمحمد حسین محنتی جماعت اسلامی سندھ کے سابق امیر ہیں۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ 1946ء میں کاٹھیاوار، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ انکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، تمام مذہبی اور سیاسی حلقوں میں وہ بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ 2002ء کے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمد حسین محنتی جماعت اسلامی کراچی کے بھی امیر رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے محترم محمد حسین محنتی کیساتھ غزہ میں امریکی پلان کے تحت عالمی فورس کی تعیناتی اور اس میں پاک فوج کی شمولیت و دیگر متعلقہ موضوعات پر کراچی میں انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد حسین محنتی جماعت اسلامی عالمی فورس
پڑھیں:
ہم یورپی یونین میں ترکیہ کی شمولیت کے حامی ہیں، جرمنی
جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکان فیدان کا کہنا تھا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج "برلن" میں جرمنی کے وزیر خارجہ "یوهن وادفول" نے اپنے تُرک ہم منصب "حكان فیدان" سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یوھن وادفول نے کہا کہ جرمنی، یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے ترکیہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ملاقات میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات، یوکرین و مشرق وسطیٰ کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور یورپی یونین میں ترکیہ کی رکنیت کے عمل پر بات چیت کی۔ دوسری جانب اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں تُرک وزیر خارجہ نے کہا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے طے شدہ شرائط سے کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہاں ہے کہ اس عمل میں سالوں سے کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔ ہم نے اس حوالے سے مذکورہ بالا ملاقات میں ضروری بات چیت کی۔ ہمیں اب بھی توقع ہے کہ یورپی یونین، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق چلائے گی۔