بلدیاتی اداروں کی مالی خودمختاری بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
لوکل گورنمنٹ کانفرنس سے خطاب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ نئے بلدیاتی انتخابات تک موجودہ نمائندے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے وژن کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے عمل کو مزید تیز کردیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لوکل کاؤنسل ایسوسی ایشن سندھ کے زیرِ اہتمام لوکل گورنمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد، میئر سکھر ارسلان شیخ سمیت صوبے بھر سے منتخب نمائندوں اور مقامی حکومتوں کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سید ناصر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سیشن انتہائی اہم ہے اور کانفرنس میں پیش کی جانے والی تمام سفارشات پر یقینی عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر منتخب نمائندوں کے مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ قانون سازی میں بہتری کے لیے منتخب نمائندوں سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے جبکہ وائس چیئرمین کے اختیارات کو مزید واضح اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی عوامی مسائل کا دیرپا حل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئے بلدیاتی انتخابات تک موجودہ نمائندے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے وژن کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے عمل کو مزید تیز کردیا گیا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی مالی خودمختاری بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے، جبکہ شہری سہولیات کی بہتری اور بلدیاتی نظام کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔