بی آئی ایس پی کا انقلابی اقدام: 1 کروڑ والٹ اکاؤنٹس کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام آباد(طارق سمیر)سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد کا ملک کے 100 سے زائد اضلاع میں سوشل پروٹیکشن والٹس کے اجراء کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر مفت سموں کی تقسیم کا جائزہ سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام عامر علی احمد نےآج بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس کے دوران سوشل پروٹیکشن والٹس کے ملک کے 100 سے زائد اضلاع میں اجراء کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر مستحق خواتین میں مفت سموں کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا۔ اب تک ملک بھر میں 112,122 (تقریبا 1 لاکھ 12 ہزار) مفت سمیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔اجلاس کے دوران ریئل ٹائم ڈیش بورڈ کا بھی معائنہ کیا گیا، جس میں ملک بھر سے موصول ہونے والے اعدادوشماردکھائے گئے۔ اس موقع پر ٹیلی کام کمپنیوں، ایس سی اوز، پی ٹی اے اور نادرا کے نمائندگان بھی موجود تھے۔مفت سموں کی تقسیم وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وزارتِ آئی ٹی کے تعاون سے کی جا رہی ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل والٹس کو انہی سموں کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ BISP کی تاریخ میں پہلی بار 1 کروڑ مستحقین کے لیے والٹ اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں، جو شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے ادائیگی کا ایک باوقار طریقہ فراہم کریں گے۔مارچ 2026 کے اختتام تک اس عمل کو مکمل کرلیا جائیگا جس کے تحت لاکھوں مستحقین کی پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شمولیت کو یقینی بنایا جائیگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔