12 ہزار سال قدیم خاتون اور ہنس کا مجسمہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنس دانوں نے قدیم انسانیت کی تاریخ میں ایک شاندار دریافت کی ہے جس میں 12 ہزار سال پرانے دور کی ایک خاتون اور ہنس کا مجسمہ سامنے آیا ہے، جسے دنیا کا سب سے پرانا انسان اور جانور کا مجسمہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ منفرد مجسمہ مٹی سے بنایا گیا ہے اور اسے قبل از تاریخ گاؤں ناطوفین سے دریافت کیا گیا، جو آج کے مقبوضہ فلسطین، شام اور اردن کے علاقوں میں واقع تھا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق دو انچ قد والا یہ مجسمہ ایک خاتون کی نمائندگی کرتا ہے جس کے کمر پر ایک ہنس بیٹھا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہنس شکار شدہ نہیں بلکہ زندہ دکھایا گیا ہے، جس سے اس کی روحانی اور علامتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ناطوفین ثقافت میں ہنس کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اور اسے نہ صرف خوراک کے طور پر بلکہ ہڈیوں، پروں اور دیگر کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نطوفیان کے نزدیک انسان اور جانور روحانی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ہ
نس اور عورت کا یہ مناظر شاید اس باہمی روحانی تعلق کی علامت کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ اس دریافت سے قبل از تاریخی معاشروں کی زندگی، ان کے اعتقادات اور روحانی نظریات پر روشنی پڑتی ہے۔
سائنس دان اس مجسمے کو ایک نہایت اہم تاریخی شواہد کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ہزاروں سال قبل انسان اور جانور کے درمیان کس طرح کے تعلقات اور علامتی مفاہیم موجود تھے۔ اس مجسمے کی دریافت نہ صرف آثار قدیمہ کے مطالعے کے لیے بلکہ انسانی تاریخ اور ثقافت کی سمجھ بوجھ کے لیے بھی ایک قیمتی اضافہ ہے۔
یہ دریافت انسانیت کی ابتدائی سوچ اور فنون لطیفہ کی ترقی کو سمجھنے میں ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ ہزاروں سال پہلے انسان کے خیالات اور تخلیقی صلاحیتیں کتنی پیچیدہ اور علامتی نوعیت کی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔