ماں، بیٹے اور بہو کے لرزہ خیز قتل میں ملوث دو ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
پشاور:
فقیر آباد ڈویژن پولیس نے ماں، بیٹے اور بہو کے لرزہ خیز قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق فقیر آباد ڈویژن پولیس نے کارروائی کے دوران الف خان کلے قاضی آباد میں ماں، بیٹے اور بہو کے لرزہ خیز تہرے اندھے قتل کا معمہ حل کرلیا، پولیس نے واردات میں ملوث دو مرکزی ملزمان فانوس ولد ماصل خان اور فضل الرحمان ولد راحت گل ساکنان چارسدہ کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق 30 اکتوبر 2025ء کی رات ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت گھر میں داخل ہوکر مسماۃ (ن)، اُن کے بیٹے عبد الرحمن اور بہو مسماۃ (س) کو بے دردی سے قتل کیا تھا، جس کے بعد وہ اہل خانہ سمیت نامعلوم مقام منتقل ہوگئے۔
مقدمہ مقتول کے بھائی محمود ولد دلاور کی مدعیت میں درج ہونے کے بعد افسران بالا نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس پی فقیر آباد محمد ارشد خان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، جس میں ڈی ایس پی اعجاز نبی، ڈی ایس پی اکبر خان، ایس ایچ او بلال حسین اور تفتیشی افسر کامران مروت شامل تھے۔
ٹیم نے جدید سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر تفتیش، مسلسل چھاپہ زنی اور انتھک محنت کے نتیجے میں کیس کو ٹریس کیا۔
گرفتار ملزمان نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اسے خاندانی جھگڑے کا شاخسانہ قرار دیا، جب کہ ان کی نشاندہی پر آلۂ قتل (کلہاڑی)، واردات میں استعمال ہونے والی آلٹو کار اور دو موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔ پولیس کے مطابق دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور بہو
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔