چباک (ویب ڈیسک) نائیجیریا میں ایک گینگ نے ایک اسکول پر حملہ کر کے 25 طالبات کو اغوا کر لیا جبکہ ایک اسٹاف ممبر کو قتل کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ حملہ اس واقعے کے ایک دہائی بعد ہوا ہے، جب شمال مشرقی علاقے میں چباک سے تقریباً 300 لڑکیوں کے اغوا کیا گیا تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر احتجاج کیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے اسکول کے بچوں کے اغوا کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں سے لیس گینگ نے کبی ریاست میں واقع گورنمنٹ گرلز اسکول پر صبح 4 بجے (پاکستان کے وقت 8 بجے) حملہ کیا۔

پولیس نے بتایا کہ گینگ نے 25 طالبات کو ان کے ہاسٹل سے اغوا کر لیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے جبکہ اسکول کے ڈپٹی ہیڈ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہو گیا۔

نائیجیریا کی شمال مغرب میں مسلح گینگ ’بندیٹ‘ کے حملے بڑھ رہے ہیں، جو گائے چوری کرنے کے علاوہ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور گھروں کو لوٹتے ہیں۔

شمال مغرب اغوا کی وارداتوں سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ بن گیا ہے، افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک 2009 میں ملک کے شمال مشرق میں جھیل چاڈ بیسن میں بوکو حرام گروپ کے ابھرنے کے بعد سے مسلح تشدد کا شکار ہے۔

14 اپریل 2014 کو چیبوک قصبے سے اسکول کی 276 طالبات کی اغوا کی خبر نے دنیا بھر میں سرخیاں بنائی تھیں، ایک اور شمال مغربی ریاست کدونا کے کوریگا سے گزشتہ سال مارچ میں مسلح افراد نے 130 سے ​​زائد اسکول کے بچوں کو اغوا کر لیا تھا، بعد میں انہیں بغیر کسی نقصان کے چھوڑ دیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق