سرائے مغل؛ مسلح افراد کا گھر پر دھاوا، طلائی زیورات و نقدی لوٹ کر لڑکی کو بھی اغوا کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لاہور:
سرائے مغل میں پانچ مسلح افراد نے شہری کے گھر میں گھس کر طلائی زیورات اور نقدی لوٹ لی جبکہ ملزمان جواں سالہ لڑکی کو بھی اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔
پولیس کے مطابق ڈکیتی کا واقعہ گزشتہ رات پیش آیا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے پہلے گاڑی کا لاک توڑنے کی کوشش کی، ناکامی پر گھر میں داخل ہوئے۔ گھر میں گھستے ہی ملزمان نے کیری ڈبہ کی چابی مانگی، انکار پر اہلِ خانہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے مزاحمت پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور گولی مارنے کا بھی کہا۔ مقدمہ میں افتخار، محمد رضا سمیت تین نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ڈکیتی کی کارروائی کے دوران ملزمان گھر سے پانچ تولہ طلائی زیورات اور 2 لاکھ 80 ہزار روپے نقدی چھین کر لے گئے۔ ملزمان جاتے ہوئے گھر کی جواں سالہ لڑکی کو بھی اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے، جبکہ اغوا شدہ لڑکی کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔