چین کا نوجوانوں کی شادی کے اخراجات اٹھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چینی حکومت نے نوجوانوں کو شادی کی ترغیب دیتے ہوئے شادی کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے شہر ننگبو نے 31 دسمبر تک شادیاں کرنے والے جوڑوں کے شادی کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت نے نوجوانوں کو شادی اور بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چین میں گزشتہ سال شادیوں میں20 فیصد کمی آئی، جو ریکارڈ کے مطابق سب سے بڑی کمی ہے، جہاں شادی کے بعد خاندان شروع کرنے میں دلچسپی میں کمی پر طویل عرصے سے بچوں کی نگہداشت اور تعلیم کے زیادہ اخراجات کو موردِ الزام قرار دیا جا تا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے نوبیاہتا افراد شادی کے اخراجات کے لیے امدادی رقم کے8 واو¿چر حاصل کر سکتے ہیں، جن کی کل مالیت141 ڈالر ہے جوکہ واو¿چرز کی رقم کو شادی کی تقریبات اور امور پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شادی کے اخراجات کے مطابق
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی