پی ٹی آئی کی خاتون سینیٹر فلک ناز کے ساتھ مالی فراڈ میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ مبینہ مالی فراڈ میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ہدایت پر این سی سی آئی اے اسلام آباد نے ضلع بہاولنگر میں چھاپہ مار کر دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
ملزمان نے خاتون سینیٹر کو شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا روپ دھار کر فراڈ کا نشانہ بنایا، سینیٹر فلک ناز سے واٹس ایپ کے ذریعے 4 لاکھ 50 ہزار 500 روپے کا فراڈ کیا تھا۔گرفتار ملزمان محمد ندیم اور اسد فلق کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔سینیٹر فلک ناز نے فراڈ کا معاملہ قائمہ کمیٹی داخلہ میں اٹھایا تھا۔
عظمتِ رفتہ کا چراغ، ممتاز راٹھور اور فیصل راٹھور کا منفرد مقام ۔۔۔
گرفتار ملزمان کا تعلق بستی گمے والا سے ہے، مقدمہ ایف آئی آر 308/2025 کے تحت درج کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی 14، 34، 109، 419 اور 420 شامل کی گئی ہیں۔این سی سی آئی اے کے حکام دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کی بھی چھان بین اور تفتیش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 6 نومبر 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا تھا کہ ہیکرز نے مختلف اراکین پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے کا چونا لگایا ہے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں کہا تھا کہ ہیکرز کا یہ گروہ صرف 5 یا ساڑھے 5 لاکھ کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔
پاکستان میں انتخابات شفاف نہیں ہوتے تو ایوارڈ شوز کی ووٹنگ پر کیسے بھروسہ کرسکتے ہیں؟، سیمی راحیل
ہیکرز نے سینیٹر دلاور خان کے اکاؤنٹ سے ساڑھے 8 لاکھ روپے نکال لیے تھے، سینیٹر فلک ناز چترالی سے 2 قسطوں میں ہیکرز 5 لاکھ کے قریب فراڈ کر گئے تھے، متاثرہ سینیتر فلک ناز کا کہنا تھاکہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر بنانے کے نام پر کال کے ذریعے فراڈ کیا۔
سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ ہیکرز کے پاس فیملی، خاندان اور بچوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر فلک ناز کہ ہیکرز
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔