اکانومسٹ نے وہی لکھا جو ہم برسوں سے بتا رہے ہیں، حنیف عباسی کا ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ میں درج نکات وہی ہیں جن کی نشاندہی حکومت اور اتحادی جماعتیں پہلے ہی کرتی رہی ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے بانی نے اقتدار میں رہنے کے لیے مختلف سازشیں کیں، جبکہ پارٹی نے بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈنگ وصول کی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ اس رپورٹ کو غور سے پڑھیں، کیونکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں وہ لوگ مسلسل جھٹلاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ 1992 کے بعد عمران خان کی واحد کوشش یہی تھی کہ کسی بھی طرح اقتدار حاصل کیا جائے، جبکہ عوام کی خدمت کا درس دینے والے خود کرپشن میں ملوث تھے۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم کے عالمی سطح پر ملنے والی عزت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا استقبال کسی جادو ٹونے کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔
حنیف عباسی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں فیصلوں پر جادو ٹونے اور غیر معمولی اثرات کا الزام بھی درست ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی دور میں “جادوگرنی” کے زیر اثر اہم تقرریاں اور تبادلے کیے گئے، حتیٰ کہ عمران خان کے دفتر آنے اور جانے کا وقت بھی اسی کے حکم کے مطابق ہوتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کابینہ کی تشکیل سے لے کر آئینی فیصلوں تک سب کچھ بشریٰ بی بی کے اشاروں پر ہوتا تھا، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کے حصول کے لیے پرویز مشرف تک کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس دور میں خارجہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا، اور دوست ممالک کے ساتھ بنے ہوئے تعلقات بھی کمزور پڑ گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حنیف عباسی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور