چیف جسٹس آف پاکستان نےفل کورٹ اجلاس بلا لیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سٹی42: چیف جسٹس آف پاکستان نے 27 آئینی ترمیم پر بات چیت کے لیے سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس بلا لیا۔
ذرائع نے کہا کہ فل کورٹ اجلاس کل جمعہ نماز سے قبل ہوگا، فل کورٹ اجلاس میں 27 آئینی ترمیم پر بات ہوگی۔
چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس یحیٰ آفریدی کے فل کورٹ اجلاس بلانے کی خبر آج جمعرات کی دوپہر ہی آ گئی تھی۔ اب بعض لوگ اسے دو سابق قرار پا چکے ججوں کے استعفوں کے بعد کی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ دونوں سابق جج اب فل کورٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں
سپریم کورٹ کے دو سابق ججوں منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے بھی 27 وین ترمیم کو لے کر چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے فل کورٹ اجلاس بلانے کی استدعا کی گئی تھی۔ بعد میں ان دونوں ججوں نے اپنی ہی تجویز پر بلائے جا رہے اجلاس میں بیٹھ کر ساتھی ججوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کی بجائے استعفے لکھ کر ایوان صدر پہنچنے سے پہلے بعض نیوز آؤٹ لیٹس سے نشر کروا دیئے۔ جسٹس صلاح الدین پنور نے بھی فل کورٹ اجلاس بلانے کے لیے سی جے کو خط لکھا تھا لیکن جسٹس پنہور نے استعفیٰ نہیں دیا، وہ اب بھی جج ہیں۔
کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ
سٹس صلاح الدین پنور کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کو لکھا خط بھی پراسرار انداز سے میڈیا آؤٹ لیٹس تک پہنچا جس میں جسٹس صلاح الدین پنور نے فل کورٹ اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ اس خط کے متن کے مطابق جسٹس پنہور نے کہا، فل کورٹ میٹنگ بلا کر آئینی ترمیم کا شق وار جائزہ لیا جائے، انہوں نے تجویز دی، لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے۔
جسٹس پنہور نے اپنے خط مین پاکستان کی پارلیمنٹ کے آئین سازی کے ناقابلِ تنسیخ اختیار کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھا کہ ستائیسویں ترمیم "اختیارات کے توازن" کو خراب کر سکتی ہے، آئین تقاضا کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اس کا تحفظ کرے۔
وفاقی عدالتوں کے ملازمین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان
جسٹس صلاح الدین پنور نے میڈیا آؤٹ لیٹس کو خاص طور سے فراہم کئے گئے اس خط میں یہ رجزیہ جملہ بھی لکھا، " تاریخ ہماری آسانی نہیں بلکہ ہماری فیصلہ سازی کی ہمت کو یاد رکھے گی.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فل کورٹ اجلاس بلانے صلاح الدین پنور چیف جسٹس
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز