’آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جائے‘،سپریم کورٹ کے ایک اور جج نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک اور جج نے چیف جسٹس یحیی آفریدی کو خط لکھ دیا۔
جسٹس صلاح الدین پنور نے بھی چیف جسٹس یحیی آفریدی کو خط لکھا جس میں جسٹس صلاح الدین پنور نے فل کورٹ اجلاس بلانے کی درخواست کردی۔
خط کے متن کے مطابق فل کورٹ میٹنگ بلا کر آئینی ترمیم کا شق وار جائزہ لیا جائے، لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے۔
خط میں کہا گیا کہ ستائیسویں ترمیم اختیارات کے توازن کو خراب کر سکتی ہے، آئین تقاضا کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اس کا تحفظ کرے۔
جسٹس صلاح الدین پنور نے اپنے خط میں کہا کہ تاریخ ہماری آسانی نہیں بلکہ ہماری فیصلہ سازی کی ہمت کو یاد رکھے گی، عوامی اعتماد کو بچانے کےلیے فوری فل کورٹ اجلاس بلایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔