Islam Times:
2026-07-24@01:35:37 GMT

ایران سے نمٹنے کیلئے شام ہماری مدد کریگا، امریکہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

ایران سے نمٹنے کیلئے شام ہماری مدد کریگا، امریکہ

اپنے ایک ٹویٹ میں ٹام باراک كا كہنا تھا کہ اب دمشق! داعش کے بچے کھچے عناصر، ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب، حماس، حزب‌ الله اور دیگر دہشتگرد گروہوں کو ختم کرنے میں ہمارا سرگرم اتحادی ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ شام پر قابض باغی گروہ کے سربراہ "ابو محمد الجولانی" كی امریكی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے ایک روز بعد ہی، امریکی نمائندہ برائے شام و لبنان "ٹام باراک" نے دمشق کو اپنا پُرعزم ساتھی قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی سالوں سے ابو محمد الجولانی کو دہشت گردوں کا سرغنہ سمجھا جاتا تھا تاہم گزشتہ ہفتے اُن کا نام امریکہ کی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا گیا اور اب وہ کل سے امریکی قیادت میں داعش مخالف عسکری اتحاد کا حصہ ہیں۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹام باراک نے ایک ٹویٹ پوسٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ اب دمشق! داعش کے بچے کھچے عناصر، ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب، حماس، حزب‌ الله اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے میں ہمارا سرگرم اتحادی ہو گا۔

نیز امن قائم کرنے کی عالمی کوشششوں میں ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر بھی شمار ہو گا۔ حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نمائندے نے کہا کہ ابو محمد الجولانی اور امریکی صدر کی ملاقات، مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں دمشق کے دورے کے موقع پر بھی ٹام باراک نے کہا تھا کہ ابو محمد الجولانی اور ہمارے اہداف آپس میں ملتے ہیں۔ شامی صدر کے اہداف، خطے میں ہمارے اتحادیوں [اسرائیل] کے مفادات کے مطابق ہیں۔ ایران ہمارے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ابو محمد الجولانی کے لئے صرف ٹام باراک نے ہی قصیدہ خوانی نہیں کی بلکہ ڈونلڈ ٹرامپ نے بھی جبهۃ النصره کے سابق سربراہ کو ایک مضبوط رہنماء قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ابو محمد الجولانی ٹام باراک

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم