چین اور اسپین نے مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم کی ہے، چینی صدر

بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں اسپین کے بادشاہ فیلپے ششم سے ملاقات کی جو چین کے سرکاری دورے پر ہیں ۔بدھ کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے گزشتہ 50 سالوں میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے اور باہمی احترام اور حمایت کے ساتھ ان کی ترقی پر قائم رہے ہیں۔

نتیجے میں دونوں ممالک نے مختلف تاریخوں، ثقافتوں اور سماجی نظاموں کے حامل ممالک کے درمیان دوستانہ بقائے باہمی اور مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم کی ہے ، اور عالمی کھلے پن اور تعاون کو فروغ دینے اور بین الاقوامی عدل و انصاف کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اسپین کے ساتھ اپنی روایتی دوستی اور بین الاقوامی اور علاقائی امور میں اسپین کے منفرد کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین اسپین کے ساتھ مشترکہ طور پر وسیع تر تزویراتی عزم، زیادہ متحرک ترقی اور زیادہ بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ساتھ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ فریقین کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے، عملی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے اور ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تبادلوں کو مزید بڑھانا چاہیے۔

چین افرادی تبادلوں میں آسانی کے لیے ہسپانوی شہریوں کے لیے ویزا فری پالیسی میں توسیع جاری رکھے گا۔شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین بین الاقوامی امور میں مرکزی کردار ادا کرنے، آزاد تجارت کے قوانین اور بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کی حفاظت، ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے اسپین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ۔بادشاہ فیلپے ششم نے کہا کہ اسپین اور چین کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد رکھا اور احترام کیا ہے، اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی ترقی کی کامیابیاں قابل ذکر اور قابل تعریف ہیں، خاص طور پر غربت کے خاتمے اور سبز، کم کاربن کی ترقی میں اس کے کامیاب تجربات اس لائق ہیں کہ ان سے استفادہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپانوی حکومت مضبوطی سے ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ملاقات کے بعد، دونوں سربراہان مملکت نے مشترکہ طور پر تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی 10 دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شی جن پھنگ نے بین الاقوامی مشترکہ ترقی نے کہا کہ اسپین کے کے ساتھ ترقی کی کہ چین کی ایک کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال