چین اور اسپین نے مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم کی ہے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
چین اور اسپین نے مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم کی ہے، چینی صدر
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں اسپین کے بادشاہ فیلپے ششم سے ملاقات کی جو چین کے سرکاری دورے پر ہیں ۔بدھ کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے گزشتہ 50 سالوں میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے اور باہمی احترام اور حمایت کے ساتھ ان کی ترقی پر قائم رہے ہیں۔
نتیجے میں دونوں ممالک نے مختلف تاریخوں، ثقافتوں اور سماجی نظاموں کے حامل ممالک کے درمیان دوستانہ بقائے باہمی اور مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم کی ہے ، اور عالمی کھلے پن اور تعاون کو فروغ دینے اور بین الاقوامی عدل و انصاف کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اسپین کے ساتھ اپنی روایتی دوستی اور بین الاقوامی اور علاقائی امور میں اسپین کے منفرد کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین اسپین کے ساتھ مشترکہ طور پر وسیع تر تزویراتی عزم، زیادہ متحرک ترقی اور زیادہ بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ساتھ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ فریقین کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے، عملی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے اور ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تبادلوں کو مزید بڑھانا چاہیے۔
چین افرادی تبادلوں میں آسانی کے لیے ہسپانوی شہریوں کے لیے ویزا فری پالیسی میں توسیع جاری رکھے گا۔شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین بین الاقوامی امور میں مرکزی کردار ادا کرنے، آزاد تجارت کے قوانین اور بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کی حفاظت، ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے اسپین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ۔بادشاہ فیلپے ششم نے کہا کہ اسپین اور چین کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد رکھا اور احترام کیا ہے، اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی ترقی کی کامیابیاں قابل ذکر اور قابل تعریف ہیں، خاص طور پر غربت کے خاتمے اور سبز، کم کاربن کی ترقی میں اس کے کامیاب تجربات اس لائق ہیں کہ ان سے استفادہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپانوی حکومت مضبوطی سے ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ملاقات کے بعد، دونوں سربراہان مملکت نے مشترکہ طور پر تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی 10 دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شی جن پھنگ نے بین الاقوامی مشترکہ ترقی نے کہا کہ اسپین کے کے ساتھ ترقی کی کہ چین کی ایک کے لیے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔