نیکسپیریا کے معاملے میں نیڈرلینڈز کی حکومت کو اپنا غلط طرز عمل درست کرنا ہوگا، چینی وزیر تجارت

بیجنگ : چینی وزیر تجارت وانگ ون تھاؤ نے جرمنی کی وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور توانائی کیتھرینا ریچ کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ وانگ ون تھاؤ نے کہا کہ نیکسپیریا کے مسئلے کی بنیادی وجہ نیڈرلینڈز کی حکومت کی جانب سےکاروباری ادارے کے اندرونی معاملات میں غلط مداخلت ہے۔ عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں افراتفری کی پوری ذمہ داری نیڈرلینڈز پر عائد ہوتی ہے۔

چین نے معیار پر پورا اترنے والی برآمدات کو استثنیٰ دیا اور مختصر مدت میں عالمی سپلائی چینز پر دباؤ کو کم کر دیا ہے۔لیکن عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ڈچ حکومت کو اپنا غلط طرزعمل درست کرکے متعلقہ اقدامات کو منسوخ کرنے کے لئے جلد از جلد ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ جرمنی مثبت کردار ادا کرے گا۔ کیتھرینا ریچ نے کہا کہ جرمن حکومت چین کے ساتھ باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تجارت کو زیادہ متوازن اور پائیدار بنانے کی خواہاں ہے۔ جرمنی نیکسپیریا کے معاملے کو بہت توجہ دیتاہے اور ہالینڈ کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ اسی دن، چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے برآمدی کنٹرول میں پینیٹریشن رولز کو معطل کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کی جانب سے کوالالمپور میں چین-امریکہ تجارتی مشاورت میں طے پانے والے اتفاق رائے کو نافذ کرنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ چین امریکہ کے ساتھ بات چیت اور تبادلوں کو مضبوط بنانے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کے لئے تیار ہے تاکہ مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دیا جائے اور عالمی صنعتی اور سپلائی چین کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سازگار حالات پیدا کئے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سپلائی چین کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟