اسلام آباد: ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں حفاظتی انتظامات مضبوط بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جی سکیورٹی اور اے آئی جی اسپیشل برانچ نے انتظامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں طے پایا کہ داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ سائلین کے سامان کی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد کمپلیکس میں داخلہ ممکن ہو۔ داخلی دروازے کے ساتھ زگ زیگ گرلز لگائی جائیں گی اور کمپلیکس کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وکلا اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے فرضی مشق اور تربیت کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی ہوگی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپلیکس کے باہر ایمبولینس مستقل طور پر تعینات کی جائے گی تاکہ سائلین، وکلا اور ججز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔