اسلام آباد: ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں حفاظتی انتظامات مضبوط بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جی سکیورٹی اور اے آئی جی اسپیشل برانچ نے انتظامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں طے پایا کہ داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ سائلین کے سامان کی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد کمپلیکس میں داخلہ ممکن ہو۔ داخلی دروازے کے ساتھ زگ زیگ گرلز لگائی جائیں گی اور کمپلیکس کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وکلا اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے فرضی مشق اور تربیت کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی ہوگی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپلیکس کے باہر ایمبولینس مستقل طور پر تعینات کی جائے گی تاکہ سائلین، وکلا اور ججز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔