27 ویں ترمیم کیخلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ،ڈسٹرکٹ بارسکھر
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت)ہائی کورٹ بار ، ڈسٹرکٹ بار سکھر، ڈسٹرکٹ بار خیرپور کے صدور جنرل سیکرٹریز کی مشترکہ پریس کانفرنس، ممبر جوڈیشل کمیشن، صدر ہائی کورٹ بار سکھر، ممبر سندھ بار کونسل قربان ملانو ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری آچر گبول، صدر ڈسٹرکٹ بار سکھر علی احمد پٹھان، جنرل سیکرٹری ذوالفقار علی ملانو، صدر خیرپور ڈسٹرکٹ بار اعجاز علی چانڈیو سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے ترمیم کیخلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھر بار کے صدر قربان ملانو نے کہا کہ 27ویں ترمیم نہ صرف وکلا برادری بلکہ عوام کی آئینی و جمہوری آزادیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض کوئی قانونی یا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘‘ہم چاہتے ہیں کہ ریاست ذوالفقار علی بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق چلے، کیونکہ اسی آئین نے عوام کو حقِ رائے دہی، آزادیِ اظہار اور مساوات جیسی بنیادی ضمانتیں فراہم کیں۔قربان ملانو نے واضح کیا کہ وکل کمیونٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس ترمیم کے خلاف متحدہ اور منظم مؤقف اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسلام آباد میں بھی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ احتجاج اْس وقت تک جاری رہے گا جب تک 27ویں ترمیم واپس نہیں لی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا برادری کسی ایسی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی جو عوامی مفادات کے منافی ہو۔ تاہم، اگر کوئی ترمیم براہِ راست عوامی فلاح کے لیے ہو تو وکلا اس کی مکمل تائید کریں گے۔پریس کانفرنس میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار پر حالیہ حملے کی شدید مذمت بھی کی گئی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمے داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص عدلیہ یا وکل کو نشانہ بنانے کی جرات نہ کر سکے۔قربان ملانو نے مزید کہا کہ ماضی میں وکلا کے دباؤ کی وجہ سے سابقہ این ایف سی ایوارڈ متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں کئی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وکلا اس ناانصافی کے ازالے کے لیے بھی اپنی آواز بلند کریں گے۔پریس کانفرنس میں شریک وکلا نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اگر اس ترمیم کے خلاف جدوجہد میں کسی وکیل کو اپنی جان کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو وہ اس قربانی کے لیے تیار ہیں، البتہ تحریک پرامن، آئینی اور قانونی دائرے میں چلائی جائے گی۔آخر میں، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر نے تمام وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آئینی اقدار کے تحفظ اور عوامی مفاد پر مبنی شفاف ترامیم کے لیے متحد ہو جائیں، تاکہ جمہوریت کی بنیادوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس قربان ملانو ڈسٹرکٹ بار انہوں نے کہا کہ کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔