اسلام آباد کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کھل گیا، سخت سکیورٹی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ضلع کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کو آج دوبارہ کھول دیا گیا، جہاں معمول کی عدالتی کارروائیاں بحال ہو گئیں، تاہم خوف و تشویش کی فضا برقرار ہے۔
دھماکے کے افسوس ناک واقعے کے بعد وکلا، کلرکس اور سائلین بڑی تعداد میں کچہری پہنچے، جہاں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالت کے اندر اور باہر غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور داخلے کے تمام راستوں پر پولیس، رینجرز اور سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
وکلا کے کلرکس کو صرف اپنے آفیشل کارڈ دکھانے کے بعد اندر آنے کی اجازت دی جارہی ہے جب کہ عام سائلین کو مکمل تلاشی، اندراج اور شناخت کے عمل سے گزرنے کے بعد ہی داخلے کی اجازت مل رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آئندہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہیں۔
سیکورٹی اداروں نے جائے وقوع سے تمام تر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کے مقام سے حاصل کردہ مواد فرانزک ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ خودکش حملہ آور کی شناخت اور حملے کی نوعیت کے بارے میں مزید حقائق سامنے آسکیں۔
اُدھر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے سانحے کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ وکلا نے 13 اور 14 نومبر کو عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث عدالتی کارروائی معطل رہے گی۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے عدلیہ کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے اور حکومت کو کچہریوں میں سیکورٹی کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
دھماکے کے اثرات کی وجہ سے فیملی کورٹس کے ڈے کیئر سنٹر کو تاحکمِ ثانی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلعی عدالت کے ملازمین اور وہاں آنے والے والدین کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔