اسلام آباد: دھماکے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کھول دیا گیا، سرگرمیاں بحال
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد آج جوڈیشل کمپلیکس کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں وکلا اور سائلین کی بڑی تعداد معمول کے مطابق پیش ہونے کے لیے پہنچ چکی ہے، اس موقع پر کچہری میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ہر آنے والے شخص کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق وکلا کے کلرکس کو آفیشل کارڈ دکھانے کے بعد ہی اندر داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ سائلین کو تفصیلی تلاشی اور ذاتی معلومات درج کروانے کے بعد کچہری میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سکیورٹی اداروں نے دھماکے کے مقام سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
دوسری جانب وکلا برادری نے سانحے کے خلاف 2 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے، 13 اور 14 نومبر کو مکمل ہڑتال ہو گی اور وکلا ان دنوں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔
ادھر فیملی کورٹس میں قائم ڈے کیئر سینٹر کو مزید چند روز تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔