اسلام ٹائمز: ریاستیں عمومی طور پر اپنی سماجی و تاریخی یادداشت کو اس لیے تشکیل دیتی ہیں تاکہ فرد کو ملت سے مربوط رکھا جائے اور قومی شناخت کو ایسی روایات کے ذریعے مضبوط کیا جائے جو احساسِ تعلق کو تقویت دیتی ہیں۔ لکھاری ایران کی ’’سیکورٹی سے متعلق سوچ‘‘ کا سب سے برجستہ عنصر ’’غیر ملکی مداخلت کا تجربہ‘‘ بتاتی ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

 ایک ایرانی نژاد پینٹاگون افسر نے امریکہ کی ایران کے خلاف موجودہ حکمتِ عملی کے بارے میں امریکی عہدیداروں کو نصیحت کرتے ہوئے اپنے دس سالہ تحقیقی منصوبے کے بعض عملی نکات مغرب نواز مجلہ ’’سیاست‌ نامه‘‘ میں شائع کیے ہیں۔ اس امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں وسیع تحقیقی کوششیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ تہران کی فکری ساخت اور منطق کو سمجھا جا سکے اور ایسی پالیسیاں ترتیب دی جائیں جو اس چیلنج کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔ وہ اپنے دس سالہ منصوبے کو ایران کے اقدامات کا مؤثر جواب تلاش کرنے اور اس کی ممکنہ ردعمل کی پیش‌بینی پر مبنی قرار دیتی ہیں۔

وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ اس تحقیق میں اس نے یورپ، امریکہ، ایران اور اسرائیل کے اہلکاروں و ماہرین سے گفتگو کی ہے، یہ افسر امریکی وزیر دفاع کی مشیر بھی رہ چکی ہیں۔ لکھتی ہیں کہ ایک بنیادی سوال امریکی اور یورپی عسکری منصوبہ سازوں کے ذہنوں کو مشغول کیے ہوئے ہے کہ ایرانی کیا سوچتے ہیں؟ ان کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟ اور وہ امریکی اقدامات کا جواب کس صورت میں دے سکتے ہیں؟ اپنے مضمون کے مقدمے میں وہ یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ انقلابِ اسلامی کے چار دہائی بعد بھی ’’تندرو چہرے‘‘ سرکاری میڈیا سے ایرانیوں کو مغرب کی ’’زورگویی‘‘ کے مقابلے پر ابھارتے ہیں۔

اس کے بقول ایران کی موجودہ پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی پس منظر جاننا ضروری ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ایران کی تزویراتی سوچ دراصل ایسے تاریخی و اجتماعی حافظے سے جنم لیتی ہے جو اس کے نظریاتی سانچے کا بنیادی جزء ہے۔ اس کے مطابق ریاستیں عمومی طور پر اپنی سماجی و تاریخی یادداشت کو اس لیے تشکیل دیتی ہیں تاکہ فرد کو ملت سے مربوط رکھا جائے اور قومی شناخت کو ایسی روایات کے ذریعے مضبوط کیا جائے جو احساسِ تعلق کو تقویت دیتی ہیں۔ وہ ایران کی ’’سیکورٹی سے متعلق سوچ‘‘ کا سب سے برجستہ عنصر ’’غیر ملکی مداخلت کا تجربہ‘‘ بتاتی ہیں۔

یہ کہتی ہیں کہ ان کا مقصد ان مفاہیم اور اعتقادات سے پردہ اٹھانا ہے جو ایرانی عسکری منصوبہ سازوں کے مدنظر ہوتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ ایران عسکری خود کفالت پر اتنا زور کیوں دیتا ہے، کیوں میزائل بناتا اور ذخیرہ کرتا ہے، اور کیوں ان کا مسلسل آزمائشی عمل جاری رکھتا ہے۔ وہ ایران پر ’’درپردہ کاروائیوں‘‘ اور ’’علاقائی مداخلت‘‘ کے الزامات دہراتی ہیں۔ انقلابِ اسلامی کو وہ ’’ایسا سخت موسم‘‘ قرار دیتی ہیں جس نے ڈھائی ہزار سالہ سلطنت کا خاتمہ کیا، اور شاہ کے دور کی فوج کو ’’جدید طاقت‘‘ کہتا ہے، جسے امریکہ جیسی سپر پاور کا سہارا حاصل تھا، مگر ’’۱۹۷۹-۱۹۷۸‘‘ کی سردیوں نے سب ختم کر دیا۔

یہ افسر پھر صدام کے ایران پر حملے کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ عراق کے اندازے منطقی دکھائی دیتے تھے اور امریکہ و یورپ کی بے پناہ حمایت کا کوئی ذکر کیے بغیر صرف اتنا کہتا ہے کہ صدام نے ایرانیوں اور کردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ آرین طباطبایی، جو بائیڈن دور میں وزیر جنگ کی مشیر تھی، اپنے مضمون میں بار بار یہ مؤقف دہراتی ہے کہ ایران کی ’’تاریخ‘‘، ’’روایت‘‘ اور ’’دفاعی تزویرات‘‘ باہمی طور پر جڑے ہوئے عناصر ہیں اور امریکی و یورپی عسکری منصوبہ سازوں کو ایران کے اقدامات کا مؤثر جواب دینے کے لیے انہی تین نکات کو سمجھنا ہوگا۔

وہ اپنی تحقیق کا اہم ترین نتیجہ یہ بتاتی ہے کہ ’’جنگ‌وں اور مذاکرات‘‘ کے گرد بننے والی روایتیں ایرانی عوام کی عمومی ذہنیت کو شکل دیتی ہیں، اور یہ کہ ’’حکومتیں اس کو راسخ کرتی ہیں‘‘۔ متن کے مختلف حصے، جو اس کے پینٹاگون کے لیے تیار کردہ دس سالہ غیر محرمانہ پروجیکٹ کا خلاصہ معلوم ہوتے ہیں، اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی اسٹریٹجک مشیروں کے نزدیک ایران کا تاریخی حافظہ، اس کی جنگی و سیاسی روایات، اور اس کی دفاعی حکمتِ عملی ایک مربوط نظام بناتے ہیں جسے سمجھنے کے بغیر ایران کی سمت کو بدلنا ممکن نہیں۔

طباطبایی بالواسطہ طور پر امریکی وزارت جنگ کے اپنے اعلیٰ حکام کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ اگر وہ ’’جمهوری اسلامی سے مربوط چیلنجز‘‘ کا بہتر جواب چاہتے ہیں تو انہیں ’’جنگ و مذاکرات کی روایت‘‘ پر کنٹرول یا اثر اندازی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے مطابق جب تک ایرانی عوام کے تاریخی تجربے، جنگوں اور مذاکرات کے بارے میں بدگمانی کے ساتھ روایت ہوتی رہے گی، ’’سازگار منصوبہ بندی‘‘ ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے نظریے کے مطابق اگر ایرانیوں کے لیے جنگ اور مذاکرات کی ایسی متبادل روایتیں بنائی جائیں جو ان کے عمومی برداشت کو بدل دیں، تو ممکن ہے کہ ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں بنیادی عناصر جیسے ’’میزائل سازی و ذخیره‌ سازی‘‘ بھی غیرضروری محسوس ہونے لگیں۔

اس کے بقول یوں ’’جمهوری اسلامی سے مربوط چیلنجز‘‘ کا مقابلہ مغرب کے لیے آسان ہو جائے۔ اس امریکی افسر کے مضمون پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی حلقوں میں گزشتہ مہینوں کے دوران ’’اسنپ‌ بک‘‘ کی ناکامی اور ایٹمی مذاکرات کے رسوا کن نتائج کو ڈھانپنے کے لیے جو بیانیاتی سرگرمی جاری ہے، اس کی جڑ اسی اسٹریٹجک فکر میں پیوست ہے۔ طباطبایی، مغرب نواز حلقوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ایران کی جنگی و سیاسی تاریخ کی ایسی روایت نہیں بننے دینی چاہیے جو عوامی نقطہ نظر کو مغرب کے بارے میں مزید بدگمان بنائے، کیونکہ اس کے بقول ایسا رویہ ’’قومی مفاد‘‘ کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ ایران کی ہے کہ ایران دیتی ہیں کے لیے اور اس ہیں کہ

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان