ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر: ڈاکٹر مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار) وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی بنک کے وفد سے ملاقات کی۔ پاکستان کو درپیش معاشی عدم استحکام اور مہنگائی کے عوامل، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر حکمت عملی، اور پائیدار ترقی کے اہداف پر گفتگو ہوئی۔ مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ بجٹ اور کم مہارت والے منصوبے دیرپا نتائج نہیں دیتے۔ عالمی بنک کے وفد نے پاکستان کے ساتھ آئندہ دس سالہ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (FY26FY35) پیش کیا، جو دو سالہ مشاورت کا نتیجہ ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے منصوبوں کی رفتار اور موثریت میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: منصوبوں کی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔