بھارت کو نئی دہلی دھماکے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی، مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انہوں نے بھارت کو نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ دھماکے کی تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی ہے۔
کینیڈا میں جی سیون اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن حکومت نے بھارتی حکام کو تکنیکی اور تحقیقاتی تعاون کی پیشکش کی، تاہم بھارت کے پاس اپنی سطح پر مکمل تحقیقات کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، اس لیے ممکن ہے کہ انہیں ہماری مدد کی ضرورت نہ پڑے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا دہشت گردی کے ہر واقعے کی مکمل مذمت کرتا ہے اور ایسے حملوں کے پیچھے موجود عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے آئندہ ہفتے واشنگٹن کے دورے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس دورے کے دوران کئی اہم اقتصادی و دفاعی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان کچھ معاملات حتمی مراحل میں ہیں، اور امید ہے کہ ملاقات کے نتیجے میں امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔