مجھے امید ہے کہ دہلی کار دھماکے کی مکمل اور فوری تحقیقات کی جائیگی، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اپنی پوسٹ میں ممبر پارلیمنٹ نے لکھا ہے کہ میں لال قلعہ کے باہر کار دھماکے کی خبر سے بہت غمزدہ ہوں، میں زخمیوں کی جلد صحتیابی اور اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کیلئے صبر کی دعا کرتا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کے لال قلعہ کے باہر کار دھماکے پر اے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسد الدین اویسی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو قانون کے تحت سخت سزا دی جانی چاہیئے۔ پارلیمنٹ ممبر اسد الدین اویسی نے اس واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا ہے "میں لال قلعہ کے باہر کار دھماکے کی خبر سے بہت غمزدہ ہوں، میں زخمیوں کی جلد صحتیابی اور اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے لئے صبر کی دعا کرتا ہوں"۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس واقعہ کی مکمل اور فوری تحقیقات کی جائے گی، اس گھناؤنے فعل کے مرتکب افراد کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دی جائے۔
اس خوفناک کار بم دھماکے میں اب تک کئی افراد ہلاک اور متعدد خمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے لال قلعہ کے قریب لوک نائک جئے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال میں علاج کے لئے منتقل کیا گیا۔ کئی زخمیوں کی نازک کہی جا رہی ہے۔ لال قلعہ کے باہر میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے قریب اس خوفناک کار بم دھماکے کے بعد پوری دہلی میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی، اتر پردیش اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کی ہر زاویے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لال قلعہ کے باہر اسد الدین اویسی کار دھماکے دھماکے کی
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔