نئے تجارتی معاہدے کے بعد بھارت جلد ہی امریکا کو دوبارہ پسند کرے گا، صدر ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز

واشنگٹن:(آئی پی ایس)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک نئی تجارتی ڈیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ماضی کے تمام معاہدوں سے مختلف ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں نیا موڑ آنے والا ہے، اور اس ڈیل سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری کو مرحلہ وار ختم کر رہا ہے، اور امریکہ بھارت کو اس تبدیلی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ بھارت پر محصولات میں کمی لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ آیا تھا تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ بھارت جلد ہی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے لگے گا۔

انہوں نے اپنے منفرد انداز میں کہا کہ بھارت ابھی ہمیں پسند نہیں کرتا لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ جلد ہی ہمیں دوبارہ پسند کرنے لگے گا۔

امریکی صدر نے شام اور ترکی کے تعلقات پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر شام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

شٹ ڈاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے اور بہت جلد شٹ ڈاؤن ختم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مسئلے کو جلد حل کر لیں گے اور امریکہ کی حکومت دوبارہ معمول کے مطابق چلنا شروع کر دے گی۔

ٹرمپ نے بھارت کے لیے نئے امریکی سفیر کی تعیناتی کا اعلان بھی کیا اور سرجیو گور کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

سرجیو گور نے بھارت کے لیے امریکی سفیر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد یہ نئی تعیناتی دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری لانے کی ایک اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے رضوان نے خود کپتانی چھوڑی، ان کے ہی مشورے سے ٹیم کی قیادت سنبھالی: شاہین آفریدی لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں بے ضابطگیاں، وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جے یو آئی نے27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا تھائی لینڈ نے ٹرمپ کی ثالثی میں کمبوڈیا کے ساتھ طے پانے والا امن معاہدہ معطل کردیا طالبان سے دوبارہ بات ہوسکتی ہے کیونکہ ہم اپنے دوستوں کوانکار نہیں کرسکتے: وزیر دفاع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جلد ہی

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل