امریکا اور بھارت نئے اقتصادی و سکیورٹی معاہدے کے قریب، صدر ٹرمپ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکا بھارت کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق متوقع معاہدہ امریکی توانائی کی برآمدات میں اضافہ کرے گا اور امریکا کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے بھارت کو چابہار بندرگاہ پر 6 ماہ کی پابندیوں سے چھوٹ دیدی
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بھارت کے لیے اپنے نئے سفیر سرجیو گور کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصفانہ معاہدہ متوقع ہے۔
’ہم ایک منصفانہ معاہدہ کر رہے ہیں، صرف ایک منصفانہ تجارتی معاہدہ۔ ہم بھارت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کر رہے ہیں، جو ماضی کے معاہدوں سے بالکل مختلف ہے۔‘
President Trump said he “at some point” would reduce the tariff rate on Indian goods, saying the US was getting “pretty close” to a trade deal with New Delhi.
“Right now they don’t love me, but they’ll love us again,” he said. “We’re getting a fair deal” https://t.co/KH5utMIvpt pic.twitter.com/L5yywAw3wn
— Bloomberg (@business) November 10, 2025
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی مرحلے پر بھارتی مصنوعات پر عائد درآمدی محصولات کی شرح میں کمی پر غور کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکااور بھارت میں 10 سالہ دفاعی معاہدہ، کیا یہ چین کی بڑھتی طاقت کا خوف ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نئی دہلی کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکا ہے۔
’فی الحال وہ (بھارتی حکام) مجھ سے زیادہ خوش نہیں ہیں، لیکن وہ دوبارہ ہم سے خوش ہوں گے، ہم ایک منصفانہ معاہدہ حاصل کر رہے ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی امریکا بھارت بھارتی مصنوعات تجارتی معاہدے ٹریڈ ڈیل ٹیرف درآمدی محصولات سیکیورٹی تعلقات صدر ٹرمپ نئی دہلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت بھارتی مصنوعات تجارتی معاہدے ٹریڈ ڈیل ٹیرف درآمدی محصولات سیکیورٹی تعلقات نئی دہلی ایک منصفانہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ