نئی دہلی میں بڑھتی فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بھارت کے دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے خلاف شہریوں، والدین اور ماحولیاتی کارکنوں نے انڈیا گیٹ کے سامنے احتجاج کیا، جس میں کئی مائیں اپنے بچوں کے ہمراہ شریک ہوئیں۔
مظاہرین نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ دہلی کے شہریوں کو صاف اور صحت مند ہوا فراہم کی جا سکے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام کے مطابق انڈیا گیٹ پر احتجاج کی اجازت نہیں تھی، اس لیے قانون و امن برقرار رکھنے کے لیے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: دہلی دنیا میں فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر، لاہور کا نمبر کونسا ہے؟
ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دہلی کے بچے اس زہریلی فضا سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ہر تیسرا بچہ پھیپھڑوں کے نقصان کا شکار ہے، اور اگر یہی صورتحال رہی تو ان کی اوسط عمر 10 سال کم ہو جائے گی۔
دہلی میں اتوار کو ایئر کوالٹی انڈیکس 39ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی علاقوں میں یہ 400 سے تجاوز کر گیا، جس سے شہر دنیا کے آلودہ ترین مقامات میں شامل ہو گیا۔
اسی دوران سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف، جس میں آوارہ کتوں کی مخصوص علاقوں سے منتقلی کا حکم دیا گیا تھا، ایک اور احتجاج بھی انڈیا گیٹ پر جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ پنجاب ’کوپ کانفرنس‘ میں اسموگ پر بھارت سے آلودگی کا معاملہ اٹھائیں گی
دوسری جانب عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے دہلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج دہلی فضائی آلودگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہلی فضائی آلودگی فضائی آلودگی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔